Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
89 - 662
اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (۲۱)      (پ۲۶،  الذاریات: ۲۰۔ ۲۱) 		والوں کو اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں ۔
انسان جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نشانیوں میں غورو فکر کرنے لگتا ہے تو اس کے یقین اور معرفت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (2) اس کی نعمتوں میں غور فکر: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں میں غورو فکر کرنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے محبت کی علامت ہے۔ (3) اس کی طرف سے ملنے والے ثواب میں غور و فکر:یعنی ان اشیاء میں غور و فکر کرنا جو اللہ تعالٰی نے اپنے اولیاءکے لیے تیار کررکھی ہیں ۔ یعنی جنتی انعام واکرام وغیرہ۔ اِس غورو فکر کی بدولت اُن کی رغبت اورطلب کی کوشش میں اضافہ ہوگا اور عبادت ِالٰہی پر قوت ملے گی ۔ (۴) اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے عذاب میں غورو فکر: اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے دشمنوں کی ذلت ورسوائی اور سزا و عبرت کے ‏لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے اس میں غور و فکر کرنا۔ اِس غور وفکر سے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف پیدا ہوگا اور گناہوں سے بچنے کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ (5) اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے احسانات اور اپنی بے وفائی میں غورو فکر : یعنی اپنے اوپر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے احسانات کو یاد کرنا۔ اس کے احسانات ہم پر بے شمار ہیں مثلاً گناہوں کوچھپا ئے رکھنا ، ان پر سزاکے بجائے توبہ کی توفیق عطافرمانا ۔ اس طرح انسان یہ سوچے کہ نافرمانیوں کے باوجود مجھے نعمتوں سے محروم نہیں کیا جاتا یہ ربِّ کریم کا کتنا بڑا کرم ہے ۔ اِس طرح غور و فکر کرنے سے شرم و حیا میں اضافہ ہوگا ۔ جومذکورہ پانچ باتوں میں غور و فکر کرے اُس کا شمار اُن لوگوں میں ہوگا جن کالمحہ بھرکا تَفَکُّر سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔ ‘‘  (1)  
تین چیزوں کے بارے میں نہ سوچو:
ایک داناکا قول ہے کہ تین ا شیاء کے بارے میں بالکل غور و فکر نہ کرنا: (1) فقر و محتاجی کے بارے میں کبھی نہ سوچنا ورنہ پریشانیوں ،  غموں اور لالچ میں اضافہ ہوگا۔ (2)  ظالم کے ظلم کے بارے میں نہ سوچنا ورنہ دل میلا رہے گا،  کینہ میں اضافہ ہوگااورہمیشہ غصہ میں رہو گے۔  (3) لمبی عمر کے بارے میں نہ سوچنا  ورنہ مال کی حرص پیدا ہو گی،  وقت ضائع کرنے لگو گے اورآج کا کام کل پرڈالنے کی عادت پڑ جائے گی۔ (2) 



________________________________
1 -   تنبیہ الغافلین ، باب التفکر، ص۳۰۸۔۳۰۹ ملتقطا۔
2 -   تنبیہ الغافلین ، باب التفکر، ص ۳۰۹۔