Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
88 - 662
شیطانی کفریہ وسوسے کا علاج :
رحمتِ عالَم، نورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ شیطان انسان سے کہتا ہے کہ آسمانوں کو کس نے پیدا کیا؟   ‘‘ وہ کہتا ہے : ’’  اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے۔ ‘‘  پھر پوچھتا ہے:  ’’ زمین کس نے بنائی؟  ‘‘  وہ کہتا ہے : ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے۔ ‘‘ پھرپوچھتا ہے: ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟  ‘‘ تو جب شیطان تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے تو وہ فوراً یوں کہے: ’’ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَبِرُسُوْلِہیعنی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ او ر اس کے رسول پر ایمان لایا۔ ‘‘  (1) 
آخرت میں سب سے زیادہ خوشی :
حضرتِ سَیِّدُنا عامر بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ آخرت میں سب سے زیادہ خوشی اُسے ہوگی جو دنیا میں سب سے زیادہ غمزدہ تھا اور سب سے زیادہ ہنسی اسے نصیب ہوگی جو دنیا میں سب سے زیادہ رونے والا تھا اوروہاں سب سے زیادہ مخلص مؤمن وہ ہوگا جو دنیا میں سب سے زیادہ غور و فکر کرنے والا تھا۔ لمحہ بھر کا تَفَکُّر سال بھر کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔ ‘‘  (2)  
پانچ چیزوں میں غور وفکر:
حضرتِ سَیِّدُنا فقیہ ابو لَیث ثمر قندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’  جو غورو فکر کی فضیلت حاصل کرنا چاہے اُسے چاہیے کہ پانچ چیزوں میں غور و فکر کرے: (1) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نشانیوں میں غوروفکر: یعنی انسان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قدرت میں غور و فکر کرے کہ اس نے آسمانوں اور زمینوں کو کیسی قدرت سے بنایا۔ وہی سورج کو مشرق سے نکال کر مغرب میں غروب کرتا ہے،  رات اور دن کو باری باری لاتا ہے ۔ اسی طرح انسان خود اپنی ذات کے بارے میں غور کرے،  جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:
وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ (۲۰)  وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-		 ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین

				



________________________________
1 -    مسلم، کتاب الایمان، باب بیان الوسوسۃ ۔۔۔الخ،ص۸۱، حدیث : ۱۳۴۔
2 -   تنبیہ الغافلین ، باب التفکر، ص۳۰۸  ۔