(3) حضرت سَیِّدُنَا عامر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سنا ہے کہ ’’ تَفَکُّر (یعنی کائنات کے عجائبات اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں غور وفکر کرنا ) ایمان کا نور یا ایمان کی روشنی ہے۔ ‘‘ (1)
(4) حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’ ایک گھڑی غور و فکر کرنا پوری رات کے قیام سے بہتر ہے۔ ‘‘ (2)
(5) حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ’’ دن رات کے بدلنے میں لمحہ بھر کا غور و فکر اَسّی 80سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ ‘‘ (3)
(6) تَفَکُّرْعبادت سے اس لیے افضل ہے کہ تفکر تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچاتا ہے جب کہ عبادت اجر و ثواب تک پہنچاتی ہےتو جو چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچائے وہ زیادہ بہتر ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ تفکر دل کا عمل ہے اور عبادت دیگر اعضاء کا عمل۔ اور دل بقیہ تمام اعضاء میں زیادہ شرف والا ہے، لہذا اس کا عمل بھی دیگر اعضاء کے عمل سے افضل ہوگا۔ (4)
(7) حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اپنی آنکھوں کو عبادت میں سے حصہ دو۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ عبادت میں آنکھوں کا کیا حصہ ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ قرآن پاک کو دیکھنا، اس میں غور و فکر کرنا اور اس کے عجائب سے عبرت حاصل کرنا۔ ‘‘ (5)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - تفسیر د ر منثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱ ،۲ / ۴۰۹ ملتقطا۔
2 - العظمۃ للاصبھانی، ما ذکر من الفضل فی المتفکر فی ذلک، الجزء الاول، ص۲۹۷، حدیث: ۴۲۔
3 - تفسیر د ر منثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱ ،۲ / ۴۰۹ ملتقطا۔
4 - تفسیر روح البیان، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۲ / ۱۴۵۔
5 - شعب الایمان،کتاب تعظیم القران، فصل فی قراۃ القران من المصحف،۲ / ۴۰۸،حدیث: ۲۲۲۲۔