Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
85 - 662
زیادہ کوئی چیز دلوں کو روشن نہیں کرتی۔ ‘‘  (1) 
علامہ سید شریف جرجانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تَفَکُّر کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’  مطلوب کو پانے کے ‏لیے دل کا معنوی اشیاء میں تصرف کرنا تَفَکُّر ہے اور یہ دل کا چراغ ہے جس سے دل کی اچھائی ،  برائی اور نفع و نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ‘‘  (2) 
غور و فکر کرنے کے فضائل:
 (1) حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا کہے گاکہ عقلمند کہاں ہیں ؟  پوچھا جائے گا : عقل مند کون ہیں ؟  کہا جائے گا:
اَلَّذِیْنَ  یَذْكُرُوْنَ  اللّٰهَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰى  جُنُوْبِهِمْ  وَ  یَتَفَكَّرُوْنَ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  هٰذَا  بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ  فَقِنَا  عَذَابَ  النَّارِ (۱۹۱)  (پ۴،  آل عمران: ۱۹۱)
 ترجمہ ٔ کنزالایمان: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ،  اے ربّ ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا،  پاکی ہے تجھے،  تُو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ پھران لوگوں کے ‏لیے جھنڈا لگایا جائے گا اور قوم اُن کے جھنڈے کے نیچے چلے گی اور منادی اُن سے کہے گا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے ‏لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (3) 
 (2) تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْنمیں ہے :  ’’ جو کوئی ستاروں کو دیکھ کر یہ پڑھے:رَبَّنَامَاخَلَقْتَ ھٰذَابَاطِلاً سُبْحَانَک فَقِنَاعَذَابَ النَّارِ اور اُن کے عجائبا ت اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قدرت میں غور و فکر کرے تو اس کے ‏لیے ستاروں کی تعداد کے برابرنیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘  (4)  


________________________________
1 -   تفسیرخازن،پ۴،آلِ عمران ،تحت الآیۃ: ۱۹۰،۱۹۱، ۱ ‏ / ۳۳۶ ملتقطا۔
2 -   التعریفات،ص ۴۶۔
3 -   تفسیر درمنثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۲‏ / ۴۰۷۔
4 -   تنبیہ الغافلین، باب التفکر، ص۳۰۸۔