زیادہ کوئی چیز دلوں کو روشن نہیں کرتی۔ ‘‘ (1)
علامہ سید شریف جرجانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تَفَکُّر کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مطلوب کو پانے کے لیے دل کا معنوی اشیاء میں تصرف کرنا تَفَکُّر ہے اور یہ دل کا چراغ ہے جس سے دل کی اچھائی ، برائی اور نفع و نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ‘‘ (2)
غور و فکر کرنے کے فضائل:
(1) حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا کہے گاکہ عقلمند کہاں ہیں ؟ پوچھا جائے گا : عقل مند کون ہیں ؟ کہا جائے گا:
اَلَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (۱۹۱) (پ۴، آل عمران: ۱۹۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ، اے ربّ ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا، پاکی ہے تجھے، تُو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ پھران لوگوں کے لیے جھنڈا لگایا جائے گا اور قوم اُن کے جھنڈے کے نیچے چلے گی اور منادی اُن سے کہے گا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (3)
(2) تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْنمیں ہے : ’’ جو کوئی ستاروں کو دیکھ کر یہ پڑھے:رَبَّنَامَاخَلَقْتَ ھٰذَابَاطِلاً سُبْحَانَک فَقِنَاعَذَابَ النَّارِ اور اُن کے عجائبا ت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں غور و فکر کرے تو اس کے لیے ستاروں کی تعداد کے برابرنیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘ (4)
________________________________
1 - تفسیرخازن،پ۴،آلِ عمران ،تحت الآیۃ: ۱۹۰،۱۹۱، ۱ / ۳۳۶ ملتقطا۔
2 - التعریفات،ص ۴۶۔
3 - تفسیر درمنثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۲ / ۴۰۷۔
4 - تنبیہ الغافلین، باب التفکر، ص۳۰۸۔