اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا (پ۲۶، محمد: ۱۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے۔
تفسیر خازن میں ہے: ’’ ( اے محبوب) یہ مشرکینِ مکہ جو آپ کو جھٹلاتے ہیں ، کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیاتا کہ دیکھتے کہ اُن سے پہلی اُمَّتوں کا کیا انجام ہوا؟ رسولوں کو جھٹلانے کے سبب انہیں ہلاک کر دیا گیا، لہٰذا اُن کے انجام سے کفا رِ مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔ اگرغور و فکر کرتے اور عبرت حاصل کرتے تو ایمان لے آتے۔ ‘‘ (1)
تفسیر طبری میں ہے: ’’ ( اے محبوب) یہ مشرکینِ مکہ جو توحید، آپ کی نبوت اور جو چیز آپ لے کر آئے یعنی اخلاص، طاعت اور عبادت وغیرہ اُس کا انکار کرتے ہیں ۔کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ پہلی قوموں کا انجام دیکھیں کہ جب انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کیااور اپنے رسولوں اور پیروکاروں کو اُن سے نجات عطا فرمائی ۔ انہیں چاہیے کہ تَفَکُّر کریں اور عبرت پکڑیں ۔ ‘‘ (2)
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تَفَکُّرسے متعلق آیات قرآنیہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’ تَفَکُّر سے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ ہیں ، ان میں سے ایک وہ ہے جسے ہم پچھلے ابواب میں بیان کر چکے ہیں ۔یعنی ’’ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ ‘‘
تَفَکُّر کی تعریف :
’’ علم کو معلومات کی طرف لے جانے والی قوت کوعقل کے مطابق استعمال کرنا تَفَکُّر (غورو فکر) کہلاتا ہے۔ اور تَفَکُّر اسی چیز میں ہوتا ہے جس کی صورت دل میں ہو ، اسی لیے حکم دیا گیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں غور وفکر کرو، اس کی ذات میں نہ کرو۔فکر غفلت کو دور کرتی ہے اور دل میں اس طرح خوفِ خدا بڑھاتی ہے جس طرح پانی کھیتی کو بڑھاتا ہے ، غموں سےزیادہ کوئی چیز دلوں کو ویران نہیں کرتی اور فکر سے
________________________________
1 - تفسیر خازن، پ۱۳، یوسف،تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۴۹ ملتقطا۔
2 - تفسیر طبری، پ۱۳، یوسف،تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۷ / ۳۱۵۔