Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
83 - 662
ہیں ۔ فرمایا :اے بلال! کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟  اے بلال! میں کیوں نہ رؤوں ؟ آج رات میرے ربّ نے مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے:  ( اِنَّ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِ  ) …الآیۃ،  پھر فرمایا:ہلاکت ہے اُس کے ‏لیے جو اِسے پڑھے اور غور و فکر نہ کرے۔ ‘‘  (1) 
 (3) تخلیق کائنات میں غور وفکرکرو
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ (۱۷) وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ (۱۸) وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ (۱۹) وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ (۲۰) فَذَكِّرْ۫ؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ (۲۱)   (پ۳۰،  الغاشیۃ: ۱۷ تا ۲۱) 	
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا اورآسمان کو کیسا اونچا کیا گیا اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیے گئے،  اور زمین کو کیسے بچھائی گئی،  تو تم نصیحت سناؤ،  تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو۔
دُرِّ منثور میں ہے :حضرتِ سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کیا تو گمراہ لوگوں نے تعجب کیاپس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ آیات نازل کیں اور فرمایا : ’’  تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا اورآسمان کو کیسا اونچا کیا اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیااور زمین  کیسے بچھائی گئی ۔ ‘‘   (اے انسان)  تو بڑی بڑی چٹانوں پر چڑھتا ہے،  اُن میں پھوٹنے والے چشموں اوردرختوں میں پھلوں کو دیکھتا ہے۔ یہ کسی انسان نے نہیں اُگائے بلکہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ایک نعمت ہے ۔ توجس خالقِ حقیقی نے یہ سب کچھ بنایا بے شک! وہ جنت میں بھی ہر وہ چیز بنانے پر قادر ہے جو وہ چاہے۔ ‘‘  (2) 
 (4) سابقہ اُمَّتوں کے اَنجام سے عبرت 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:



________________________________
1 -   تفسیرکبیر،پ۴،آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۰ ، ۳‏ / ۴۵۸ ملخصا۔
2 -   تفسیر در منثور، پ۳۰،الغاشیۃ، تحت الآیۃ:  ۱۷ تا ۲۱ ،۸‏ / ۴۹۴ ملخصا۔