الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ (پ۴، آل عمران: ۱۹۰، ۱۹۱)
مندوں کے لیے جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ، اے ربّ ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا، پاکی ہے تجھے۔
تفسیرِ خازن میں ہے :جب اہل مکہ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نبوت پر نشانی طلب کی تو یہ آیاتِ مبارکہ نازل ہوئیں ۔ اِن کا مفہوم یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو چیزیں تمہارے رزق کے لیے پیدا کی گئیں ہیں ان میں غور وفکر کرو ، دن اور رات کو ایک دوسرے کے پیچھے رکھا اورچھوٹا بڑا ہونے میں اُن کو مختلف رکھا تاکہ دن میں تم طلبِ معاش کرو اور رات میں آرام کر و۔ پس اے عقل والو!عبرت حاصل کرو اور غورو فکر کرو۔ یہاں عقل والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو عبرت و تَفَکُّر کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں ۔ وہ جانوروں کی طرح نہیں کہ زمین و آسمان کے عجائبات سے غافل رہیں ۔ ‘‘ (1)
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے عرض کی: ’’ ہمیں رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کوئی عجیب بات بتائیے ۔ ‘‘ آ پ رونے لگیں اور فرمایا : ’’ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہر معاملہ ہی عجیب تھا۔ایک رات آپ میرے پاس تشریف لائے پھر کچھ دیر بعد فرمایا:اے عائشہ !کیا تم مجھے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کی اجازت دیتی ہو؟ میں نے عرض کی: مجھے آپ کاقُرب پسند اور آپ کی رضا مطلوب ہے، میں نے آپ کو اجازت دی۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُٹھے، وضو فرما یا، اورنماز کے لیے کھڑے ہوگئے ، پھردورانِ تلاوت اتنا روئے کہ مبارک آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی۔حضرت بلال (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) صبح کی اذان کے لیے آئے اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو روتے دیکھا تو عرض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ رو رہے ہیں حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے صدقے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرمادئیے
________________________________
1 - تفسیرخازن، پ۴،آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۰، ۱ / ۳۳۵ ملخصا۔