تفسیر خازن میں ہے:آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’’ تم فرماؤ! میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں ، اگر تم اُس پر عمل کروگے تو حق کو پہنچ جاؤ گے اور نجات پالوگے، وہ نصیحت یہ ہے کہ بقدرِ استطاعت اخلاص کے ساتھ اَمرِ الٰہی پر قائم رہو۔ پھر اتباعِ نفس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انصاف کے ساتھ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اوران کے لائے ہوئے پیغام میں غور وفکر کرو ۔تو تم پر واضح ہو جائے گا کہ وہ جنون سے پاک ہیں ۔ وہ تو پورے قریش میں سب سے زیادہ عقلمند، سب سے زیادہ بُردبار، سب سے زیادہ ذہین، سب سے زیادہ پختہ رائے والے، سب سے زیادہ سچے، سب سے زیادہ پاک دامن اورتما م اَوصافِ حمیدہ کے جامع ہیں ۔ جب تم یہ باتیں جان لوگے تو تمہیں اُن کی نبوت پر اور کوئی نشانی طلب کر نے کی ضرورت نہ ہوگی۔ ایک قول کے مطابق ’’ ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ زمین و آسمان میں غور کرو تو تم جان لوگے کہ اِن کا خالق ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘‘ (1)
تفسیر کبیر میں ہے کہ : ’’ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ‘‘ سے انسان کی تمام حالتیں بیان کر دی گئی ہیں کیونکہ انسان یا تو اکیلا ہوتا ہےیالوگوں کے ساتھ۔گویا یوں فرمایا گیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکام کی بجاآوری کروجماعت کے ساتھ بھی اور اکیلے بھی، نہ تو جماعت تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے روکے، نہ تنہائی میں ذکر الٰہی کے لیے تمہیں کسی کی محتاجی ہو۔پھر تم سب جمع ہوجاؤ اورمیرے نبی محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے حال میں غور وفکر کرو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ جنون سے بالکل پاک ہیں ۔ ‘‘ (2)
(2) عقل مندوں کے لیے نشانیاں
خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ (۱۹۰)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بےشک آسمانوں اور زمیں کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل
________________________________
1 - تفسیرخازن، پ۲۲، سبا، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۵۲۶ ملخصا۔
2 - تفسیرکبیر ، پ۲۲،سبا،تحت الآیۃ: ۴۶ ،۹ / ۲۱۴ملتقطا۔