Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
80 - 662
باب نمبر:9 	   
اُمُورِ کَائِنَات میں غو  ر   و   فِکْر کا بیان
ربّ تعالی کی عظیم مخلوق،  دنیا کے فنا ہونے، آخرت کی ہولناکیوں ،  دنیا وآخرت کے معاملات میں نفس کی کوتاہی، 
 اُس کی اصلاح اوراُسے اِستقامت پراُبھارنے کے بارے میں غوروفکر کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآن وحدیث میں جابجا تَفَکُّر، تَدَبُّر اورنظروعِبرت کا حکم دیا گیاہے،  ان سب کا معنی ہے: ’’ غور و فکر کرنا۔ ‘‘  ظاہر ہے جوکام جتنا زیادہ اہم ہو،  اس کی تاکید بھی اتنی ہی زیادہ کی جاتی ہے۔غور و فکر بہت فضیلت والا عمل ہے۔اس کی بدولت حق کی معرفت، راہ ِہدایت کی طرف رہنمائی،  حکمت ودانائی ،  زندہ دلی،  دنیا وآخرت کی کامیابی اوررضائے الٰہی جیسی عظیم نعمتیں حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ لیکن غور و فکر اُسی وقت مفید ہے جب اُس کی حقیقت ومقاصداوراُن باتوں کا علم ہو جن میں غورو فکر کرنا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ فضیلت والا غورو فکر وہی ہے جو آخرت کی بہتری کے ‏لیے ہو کیونکہ صرف دُنیوی سوچوں ہی میں گم رہنا جبکہ وہ آخرت کے لیے نہ ہو اس  کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ یہ تو آخرت کی تیاری میں رُکاوٹ کا باعث ہے۔
ریاض الصالحین کا یہ باب  ’’ غور و فکر ‘‘  کے بارے میں ہے ۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب کے تحت 4آیاتِ مبارکہ بیان کی ہیں ۔اس باب میں ان آیات کا ترجمہ  و تفسیر ، غور وفکر سے متعلق مزید آیا ت ِمقدسہ و اَحادیثِ مبارکہ،  اس کی  حقیقت،  بزرگانِ دین کی حکایات اور دیگر کئی مفید اُمور بیان کیے جائیں گے ۔ پہلے آیاتِ مبارکہ کا ترجمہ  اور تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
 (1) بہترین نصیحت
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:
قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍۚ-اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا- (پ۲۲،  سبا:۴۶)  ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم فرماؤ میں تمہیں ایک ہی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے ‏لیے کھڑے رہو دو  دو  اور اکیلے اکیلے پھر سوچو۔