Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
79 - 662
مدنی گلدستہ
 ’’ فَضْلِ ربّ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)	جنت میں داخلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے ہوگا، بغیر رحمت الٰہی کے محض اپنے عمل سے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔
(2)	جنت کا ذریعہ رحمتِ الٰہی ہے اور رحمت الٰہی  کا ذریعہ نیک اَعمال ہیں ،  لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ربّ تعالی کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے نیک اعمال کرتا رہے۔
(3)	جو کام اِستقامت  سے کیا جائے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت شامل حال ہوتو  اس کام میں ضرور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ 
(4)	جنتی جنت میں حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے داخل ہوں گے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت ہی سے جنت ملے گی۔
اللہ کی رحمت سے تو جنت ہی ملے گی
اے کاش! محلے میں جگہ اُن کے ملی ہو
(5)	نفلی عبادت میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے تاکہ اس پر دَوام و اِسْتِمْرَار  (یعنی ہمیشگی ) حاصل ہو سکے ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ اپنے رحمت والے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صدقے ہمیں  دینی ودُنیوی معاملات میں میانہ رَوی کی توفیق عطا فرمائے، اعمال صالحہ پر استقامت اور اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد