عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا کہ: ’’ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی نہیں ؟ ‘‘
مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس كا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ یعنی آپ کی نیکیاں تو قبولیت کی انتہائی منزل پر ہیں ، کیا یہ بھی حصولِ جنت کے لیے کافی و افی نہیں ؟ کیا آپ کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت درکار ہے؟ صحابہ سمجھے یہ تھے کہ ایسے موقعہ پر متکلم مُسْتَثْنٰی ہوتا ہے۔ شاید حضور یہ ہمارے لیے فرمارہے ہیں ، اس لیے یہ سوال کیا۔ اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ عمومی اَحکام پرحضور کو داخل نہ مانتے تھے۔ (حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ہاں ! میں بھی نہیں ! مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔) یعنی میں بھی محض عمل سے بِلافضل الٰہی جنت کا حقدار نہیں ، ہاں ! ربّ تعالٰی کی رحمت ہر طرف سے مجھے گھیرے تو جنت میری ہے۔ خیال رہے کہ تمام دنیا کے لیے حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم رحمت ہیں ، ربّ تعالٰی فرماتا ہے: ( وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۱۰۷) ) (پ۱۷، الانبیاء: ۱۰۷) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے) اور رحمتِ الٰہی جنت ملنے کا ذریعہ ہے۔ توہماری جنت کا وسیلۂ عظمیٰ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہیں اورحضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر خود ربّ تعالٰی کا فضل ربانی ہے (وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا (۱۱۳) ) (پ۵، النساء: ۱۱۳) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور اللہ کاتم پر بڑا فضل ہے۔) لہٰذا ہم اَور رحمت سے جنتی ہیں ، حضور ِانور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم دوسری رحمت سے۔ سورج وچاند دونوں کو نور ربّ نے دیا مگر چاند کو سورج کے ذریعے اور سورج کو بِلا واسطہ اپنی طرف سے۔ لہٰذااس حدیث سے حضور کا ہماری مثل ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ (سَدِّدُوْا: یعنی راہِ راست پر رہو۔) اس طرح کہ عقائد درست رکھو، عبادات میں درمیانی رَوِش چلو کہ بقدرِ طاقت نوافل شروع کرو، پھر ہمیشہ نبھادو اور صرف فرائض پر کفایت نہ کرو، بلکہ نوافل بھی ادا کیا کرو، خصوصاً آخری رات میں عبادت کیا کرو کہ یہ چیزیں رحمتِ الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت کا ذریعہ رحمت الٰہی ہے اور رحمت کا ذریعہ نیک اعمال ہیں ، لہٰذا اَعمال سے غافل نہ ہو ، منزل قریب ہے۔ ‘‘ (1)
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۳ / ۳۸۳ ملتقطا۔