(۱) نیک اعمال کی توفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہی سے ملتی ہے۔اگر اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی تونہ ہی ایمان نصیب ہوتا، نہ نجات دلانے والے اعمال کی توفیق ملتی۔ (۲) غلام کے منافع کامالک اس کامولا ہوتا ہے پس بندے کے عمل کامالک اس کا ربّ ہے۔اب بندے کواِنعام واِکرام سے نوازنا اور اسے جزا دینا اس کی رحمت ہی ہے۔ (۳) بعض احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جنت میں داخلہ محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے ہوگا۔ہاں !اَعمالِ صالحہ کی بدولت جنت میں مختلف درجات ملیں گے۔ (۴) بندہ جو نیک عمل کرتا ہے اس کی ادائیگی میں بہت کم وقت لگتاہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس عمل پر نہ ختم ہونے والاثواب عطا فرماتاہے۔ پس ختم ہو جانے والے عمل کے بدلے دائمی جزا دینا ربّ کریم کی بہت بڑی رحمت ہے۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ نیک اَعمال دوزخ سے بچنے، جنت میں داخل ہونے کے اَسباب تو ہیں مگر عِلَّتِ تامہ نہیں ۔بہت سے لوگ بغیر نیک عمل جنتی ہیں جیسے مسلمانوں کے ناسمجھ بچے یادیوانے یا وہ جو مسلمان ہوتے ہی فوت ہوجائیں اور بعض لوگ نیکیوں کے باوجود دوزخی ہیں جیسے نیکیاں کرنے والے کفار یا جن کی نیکیاں مردود ہوگئیں ۔ جنت ملنے کی علتِ تامہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے۔حض تُخْم (بیج) درخت کی علت تامہ نہیں ، بہت بار تخم ضائع ہوجاتا ہے۔ اس فر مان کا مقصد لوگوں کو نیکیوں سے روکنا نہیں ہے، بلکہ نیکوں کو اپنے اعمال پر ناز کرنے سے بچانا ہے کہ اے پرہیزگارو! اپنے اعمال پر غرور نہ کرو، ربّ تعالٰی کا فضل مانگو، شیطان کے اَعمال سے اس کے اَنجام سے سبق لو۔ ‘‘ (2)
صحابۂ کرام کے اِسْتِفْسَار کی وضاحت:
جب حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے یہ ارشاد فرمایا کہ ’’ کوئی بھی اپنے عمل کے ذریعے نجات نہیں پاسکتا۔ ‘‘ تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل،۱۲ / ۲۵۱، تحت الحدیث: ۶۴۶۳۔
2 - مرآۃ المناجیح، ۳ / ۳۸۳۔