واجب نہیں ، تمام عالَم اُسی کی ملکیت میں ہیں ۔وہ جوچاہے، جیسا چاہے، حکم دے۔اگر فرمانبرداروں کو عذاب دے تو یہ اس کا عدل ہے اورانہیں اِنعام و اِکرام سے نوازے اور جنت میں داخل کرے تو یہ اُس کا فضل ہے۔وہ مسلمانوں کو اپنے فضل سے جنت میں داخل فرمائے گا اور منافقین کو اپنے عدل سے عذاب دے گا اور ہمیشہ کے لیے انہیں جہنم میں داخل فرمائے گا۔یہ حدیث اِس بات پر دلیل ہے کہ کوئی شخص محض اپنے اَعمال کی وجہ سے جنت و ثواب کا حق دار نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ (1) بلکہ رَحمت ِالٰہی شرط ہے ۔
اعمال کے ذریعے دخول جنت کی وضاحت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۳۲) (پ۱۴، النحل:۳۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان:جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۷۲) (پ۲۵، الزخرف: ۷۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے۔
اِن کے علاوہ اورکئی آیات سے بظاہر یہ سمجھ آتا ہے کہ اعمال کے ذریعے جنت میں داخلہ ہوگا۔ توپھرحدیثِ مذکور اور اُن آیات میں کس طرح تطبیق ہوگی؟ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں ، یہاں چند بیان کیے جاتے ہیں :
عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّایَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اِن آیات کامطلب یہ ہے کہ جن اَعمال پرجنت کی بشارت ہے وہ اَعمال بجا لانے کی توفیق وہدایت، اُن میں اِخلاص اور اُن کی قبولیت سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور اُس کے فضل سے ہی ہوگا۔ لہٰذا حدیث اور اُن آیات میں کوئی تضاد نہیں ۔ ‘‘ (2)
فتح الباری میں ہے: ’’ عَلَّامَہ ابن جَوْ زِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس سوال کے چار جواب دیے ہیں :
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب صفۃ المنافقین،باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ،۹ / ۱۵۹،الجزء السابع عشر ملخصا۔
2 - شرح مسلم للنووی،کتاب صفۃ المنافقین،باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ،۹ / ۱۶۰،الجزء السابع عشر ماخوذا۔