فضل سے ڈھانپ لے۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی یہ حدیث پاک نقل کرنے کے بعد اَلفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اَلْمُقَارَبَۃُ:ایساعمل جس میں اِفراط وتَفْریط نہ ہویعنی میانہ رَوی اختیار کرنا۔ اَلسَّدَادُ: استقامت اختیار کرنا اور سیدھی راہ کو پہنچنا ۔یَتَغَمَّدُنِی:وہ مجھے ( فضل ورحمت ) سے ڈھانپ لے۔ علما ئے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ استقامت کا معنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری پر ہمیشگی اختیار کرنا ہے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان عالی جامع کلمات میں سے ہے اور اِستقامت اُمور کو سرانجام دینی والی ہے ۔ ‘‘
رحمت وفضل الٰہی سے اَعمال کی تکمیل:
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدبِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ سَدِّدُوْا کا مطلب ہے: درستگی کو پہنچو، کثرتِ عبادت اور نیکیوں پر استقامت کےذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرو۔ قَارِبُوْا:کا مطلب ہے کہ اپنے اُمور میں میانہ روی اختیار کرو ، اِفراط و تَفْریط سے بچو، راہِبانہ زندگی اختیار نہ کروورنہ تمہارے نفس اُکتا جائیں گےاورتمہارامعاشی نظام بگڑجائےگااورامورِ دنیا میں ضرورت سے زیادہ مشغول نہ ہوجاؤ، ورنہ نیکیوں سے بالکل دُور ہوجاؤگے۔اس حدیث پاک کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ نیک اَعمال کیے ہی نہ جائیں بلکہ اس فرمان سے مقصودبندوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنا ہے کہ تمام اَعمال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت و فضل سے مکمل ہوتے ہیں تاکہ لوگ اپنے اَعمال پر مغرور نہ ہوں اور اپنے اَعمال ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لیں ۔ ‘‘ (1)
نیک اَعمال کی توفیق :
عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّایَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اہلِ سنت کا موقف ہے کہ ثواب و عقاب اور اَحکام عقل سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ شرع سے ثابت ہوتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کوئی چیز
________________________________
1 - شرح الطیبی، کتاب الدعوات، باب سعۃ رحمۃ اللہ،۵ / ۱۳۹،تحت الحدیث: ۲۳۷۱ ملتقطا۔