(1) اُمور کی تکمیل کے لیے استقامت بہت ضروری ہے۔
(2) قلیل دائمی عمل ، کثیر عارضی عمل سے بہتر ہے ۔
(3) استقامت وہ طاقت ہے کہ جس کی بدولت مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتے ہیں ۔
(4) استقامت اختیار کرنا نیک بندوں کا شیوہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندے جو عمل خیرشروع کردیں اس پر مرتے دم تک استقامت اختیار کرتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی بزرگانِ دین کے صدقے استقامت کی دولت عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :86
جَنَّت رَحْمَتِ اِلٰہِی سے ملے گی
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا، وَاعْلَمُوْا اَنَّہُ لَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ بعَمَلِہِ، قَالُوْا: وَلَا اَنتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلّا أنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ. (1)
وَالْمُقَارَبَۃُ:اَلْقَصْدُالَّذِیْ لَاغُلُوَّ فِیْہِ وَلاَ تَقْصِیْرَ، وَالسَّدَادُ اَلْاِسْتِقَامَۃُ وَالْإِصَابَۃُ وَیتَغَمَّدَنِی یَلْبِسُنِیْ وَیَسْتُرُ نِیْ.قَالَ الْعُلَمَاءُ مَعْنَی الْاِسْتِقَامَۃِ لُزُوْمُ طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی، قَالُوْا وَہِیَ مِنْ جَوَامِعِ الکَلِم، وَہِیَ نِظَامُ الأُمُوْرِ؛ وبِاللّٰہِ التَّوفِیق.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالَم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ میانہ رَوِی اختیار کرو، اور راہِ راست پر رہو۔ اور جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی (محض) اپنے عمل سے نجات نہیں پاسکتا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی نہیں ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ہاں ، میں بھی نہیں ، مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اپنی رحمت اور
________________________________
1 - مسلم،کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار،باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ ۔۔۔الخ، ص۱۵۱۳،حدیث: ۲۸۱۶۔