خامیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ ‘‘ (1)
ربّ تعالٰی کے نزدیک پسندیدہ عمل:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!استقامت سے کیا جانے والا کام شریعت کو محبوب ہے ۔احادیثِ مبارَکہ میں ایسے عمل کی خوب ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا گیاکہ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ عمل جواستقامت کے ساتھ ہو اگر چہ تھوڑا ہو۔ ‘‘ (2)
ایک رات میں ختمِ قرآن:
ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے اعمالِ صالحہ پر کیسی استقامت اختیار کی، اس کااندازہ اس حکایت سے لگائیے۔چنانچہ کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، امامِ اعظم حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن ثابت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقنے تیس 30سال تک روزانہ ہر رات ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کیا۔ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ آپ رات کو خوفِ خدا کے باعث اِس قدر روتے کہ ہمسائے آپ پر رحم کرتے اور جس جگہ آپ کا وصال ہوا وہاں آپ نے سات ہزار 7000مرتبہ قرآن شریف ختم فرمایا تھا۔ (3)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین
مدنی گلدستہ
’’ اِیمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانے سے مراد سارے عقائد اِسْلَامِیَّہ پر ایمان لاناہے۔
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام،۱ / ۸، الجزء الثانی۔
2 - بخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل، ۴ / ۲۳۷، حدیث: ۶۴۶۵۔
3 - الخیرات الحسان، الفصل الرابع عشر،ص۵۰۔