Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
72 - 662
سے دُور ہوجاتا ہے جب تک توبہ نہ کرے ۔  ‘‘  (1) 
ربّ تعالی پر ایمان لانے کا معنی:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان لانے سے مراد سارے عقائد اِسلَامیَّہ ماننا ہیں ۔ لہٰذا اِس میں توحید و رسالت حشر و نشر،  ملائکہ جنت دوزخ سب پر اِیمان لانا داخل ہے،  جیسے کسی کو اپنا باپ مان کر اُس کے سارے اَہلِ قرابت کو اپنا عزیز ماننا پڑتا ہے کہ اُس کا باپ ہمارا دادا ہے،  اُس کی اولاد ہمارے بھائی بہن،  اُس کے بھائی ہمارے چچا تائےاور اِستقامت سے مراد سارے اَعمالِ اِسْلَامِیَّہ پر سختی و پابندی سے عمل کرنا ہے، لہٰذا یہ حدیث اِیمان و تقویٰ کی جامع ہے اور اِس پر عامل یقیناً جنتی ہے۔ ‘‘  (2) قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے فرمایا:  ’’ یہ حدیث پاک حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جامع کلمات میں سے ہے۔ ‘‘  (3) 
اِستقامت کے متعلق اَقوالِ بزرگانِ دین :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا : ’’ رِسالہ قشیریہ میں ہے کہ اِستقامت ایسا درجہ ہے جس سے اُمور کی تکمیل اور نیکیوں کا حصول ہوتا ہے ۔جو اِسے اختیار نہ کرے  اُس کی کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اِستقامت کی طاقت صرف اکابر ہی رکھتے ہیں کیونکہ اِستقامت یہ ہے کہ انسان اپنے معمولات اور رَسم و رَواج کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے اَحکامات کے مطابق کرلے۔ اِسی ‏لیے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :  ’’ استقامت پر رہو اور تم ہر گز اُس کا اِحاطہ نہیں کر سکتے۔ ‘‘  علامہ واسطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’ اِستقامت ایسا وصف ہے جس کے  پائے جانے سے اچھائیاں مکمل ہوتی ہیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے خوبیاں 


________________________________
1 -   شرح الطیبی، کتاب الایمان، الفصل الاول،۱‏ / ۱۳۴،تحت الحدیث: ۱۵۔
2 -   مرآۃ المناجیح، ۱‏ / ۳۵۔
3 -   شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام،۱‏ / ۸، الجزء الثانی۔