تفسیرِ طبری میں ہے: ’’ جنہوں نے کہا: ہمارا ربّاللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے ، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر اپنی اُس تصدیق پر ثابت قدم رہے اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکام اَوَامِر ونَوَاہی کی مخالفت نہ کی ) تو بے شک اُن لوگوں پر قیامت کے دن کوئی خوف اور غم نہ ہوگا۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:58
اِسلام پر اِسْتِقَامَت
عَنْ اَبِیْ عَمْرٍو، وَقِیْلَ:اَبِیْ عَمْرَۃَ سُفْیَانَ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْ لِّی فِی الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَاأَسْئَلُ عَنْہُ اَحَدًاغَیْرَکَ، قَالَ:قُلْ: اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ. (2)
حضرتِ سَیِّدُنا ابوعَمْرو یاابوعَمْرہ سُفیان بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اِسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے کہ پھر آپ کے علاوہ کسی اور سے اس کے متعلق نہ پوچھوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کہو:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لایا۔پھر اس پر ثابت قدم رہو۔ ‘‘
تکمیلِ اسلام والی بات:
شَرْحُ الطِّیْبِی میں ہے: ’’ یعنی مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ذریعے اِسلام مکمل ہو جائے، اسلامی باتوں کی طرف رہنمائی ہو اوراُس کے حقوق کی حفاظت ہو اور آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ قُلْ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ یعنی کہو:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لایا اور پھر اس پر قائم رہو۔ ‘‘ اِسْتَقِمایسا لفظ ہے جو تمام اَحکامات پر عمل کرنے اور تمام ممنوعہ کاموں سے رُک جانے کو جامع ہے کیونکہ بندہ حکم عدولی کی وجہ سے صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک دوبارہ تعمیلِ حکم نہ کرے۔ اِسی طرح ممنوعہ کام کے اِرتکاب سے بھی صراطِ مستقیم
________________________________
1 - تفسیر طبری، پ۲۶،الاحقاف ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۱ / ۲۸۳۔
2 - مسلم، کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام، ص۴۰،حدیث: ۳۸ بتغیر قلیل۔