اِن آیات کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’ حضرتِ صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے دریافت کیا گیا:استقامت کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: استقامت یہ ہے کہ اَمْرونَہْی پر قائم رہے۔ حضرتِ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: اِستقامت یہ ہے کہ عمل میں اِخلاص کرے ۔ حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: اِستقامت یہ ہے کہ فرائض ادا کرے اور اِستقامت کے معنی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اَمر (حکم) کو بجالائے اور معاصی (نافرمانی ) سے بچے ۔ ‘‘ (1)
(3) خوف اور غم سے محفوظ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ (۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۱۴) (پ۲۶، الاحقاف: ۱۳، ۱۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا ربّ اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم وہ جنّت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا اِنعام۔
تفسیر کبیر میں ہے : ’’ یہ آیات اِس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لائے اور نیک اَعمال کیے توبروزِ قیامت انہیں کوئی غم و خوف لاحِق نہ ہوگا۔ وہ قیامت کے دن دَہشت و گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔ بعض نے کہا: اُنہیں گرفت کا خوف نہ ہو گا۔ البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہیبت اور جلال کا خوف کسی سے زائل نہ ہوگا۔ فرشتے گناہوں سے معصوم ہیں ، بلند درجات والے ہیں ، اِس کے باوجود اُن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف زائِل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے: ( یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ) (پ۱۴، النحل: ۵۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اپنے اوپر اپنے ربّ کا خوف کرتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
________________________________
1 - خزائن العرفان، پ۲۴، حم السجدۃ، تحت الآیۃ: ۳۰۔
2 - تفسیر کبیر، پ۲۶، الاحقاف ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰ / ۱۳۔