حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پورے قرآنِ پاک میں اِس آیت سے زیادہ دشواراور کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ ایک مرتبہ جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پر عمررسیدگی کے آثار بہت جلد نمودار ہوگئے ہیں ۔ ‘‘ تو فرمایا : ’’ مجھے سورۃ ھوداور اُس جیسی دوسری سورتوں نے عمر رسیدہ کر دیا ہے۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ ایک استقامت ہزار کرامتوں سے بہتر ہے، استقامت یہ ہے کہ بندہ رنج وغم مصیبت وراحت میں اللہ کی بندگی سے منہ نہ موڑے، ہر حال میں راضی بہ رَضا رَہے، اِستقامت ہی ولایت کی جڑ ہے، جس سے حضور کی ہمراہی ملتی ہے۔ ‘‘ (2)
(2) فرشتوں کے دوست
اِرشاد باری تعالی ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (۳۰) نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ (۳۱) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ (۳۲) (پ۲۴، حم السجدۃ: ۳۰ تا ۳۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا ربّ اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے۔
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام،۱ / ۸، الجزء الثانی۔
2 - نورالعرفان، پ۱۲، ھود، تحت الآیۃ: ۱۱۲۔