با ب نمبر:8 اِستِقامت کا بیان
ایسا کون ہوگا جسے کامیابی کی تمنا نہ ہو؟ ہرشخص چاہتا ہے کہ میں کامیاب رہوں اور مجھے کبھی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن سب کی یہ تمنا پوری نہیں ہوتی۔ ناکامی کی ایک بڑی وجہ استقامت نہ ملنابھی ہے ۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔کام کا نتیجہ توجلد چاہتا ہے لیکن استقامت اختیار نہیں کرتا لہٰذااپنے مقصد میں ناکام ہوجاتاہے۔ کسی کام کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس کام پر استقامت ضروری ہے۔ اگرچہ استقامت بذات خود ایک مشکل امر ہے، مشہور مقولہ ہے: ’’ اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ یعنی استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے۔ ‘‘ لیکن استقامت کی بدولت مشکل سے مشکل اُمور بھی بآسانی سر انجام دیے جاسکتے ہیں ۔
جو پتھر پہ پانی پڑے مُتَّصِل ……… تو بے شُبہ گھس جائے پتھر کی سِل
ریاض الصالحین کا یہ باب بھی ’’ اِستقامت ‘‘ کے بارے میں ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں 3آیاتِ مقدسہ اور2اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1) دِین پر قائم رہو!
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید میں اِرشاد فرماتا ہے:
فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ (پ۱۲، ھود: ۱۱۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے۔
تفسیرِ خازن میں ہے: ’’ اِس آیت میں حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے خطاب ہے کہ آپ اپنے ربّ کے دین پر ثابت قدم رہیئے، اِس پر عمل کرتے رہیئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے دعا مانگئے جیسا کہ آپ کے ربّ نے آپ کو حکم دیا ہے۔یاد رہے یہ حکم تاکید کے لیے ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو پہلے ہی ثابت قدم تھے۔ یہ اس طرح ہے جیسے کسی کھڑے ہوئے شخص سے کہا جائے کہ میرے آنے تک کھڑے رہنا۔ (1)
________________________________
1 - تفسیر خازن،پ۱۲،ھود ،تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۲ / ۳۷۳۔