Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
67 - 662
(1)	طالب علم کا رزق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے۔
(2)	جو اپنے رزق میں وُسعت،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت اور دین ودنیا کی بھلائی کا خواہاں ہو،   اسے چاہیے کہ دینی طلبہ کے ساتھ خیر خواہی کر ے۔
(3)	جو سب کچھ چھوڑ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کرتے ہوئے علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہو جاتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بغیر کَسْب کے اُسے رزق عطا فرماتا ہے۔ 
(4)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بعض نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے سبب دوسروں کو رزق دیا جاتا ہے۔
(5)	اپنے آپ کو علم دین کے لیے وقف کردینا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔
(6)	دینی طلبہ کی حوصلہ اَفزائی   کرنا  ان کے ساتھ خیر خواہی کرنا  بہت اچھا عمل بلکہ عبادت ہے ۔
(7)	اگر کسی کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اس بات کی توفیق بخشی ہے کہ وہ راہِ خدا میں اپنے کسی قریبی عزیز،  رشتہ دار ،  دوست احباب وغیرہ  کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہوئے ان پر خرچ کررہا ہے تو اسے چاہیے اس پر اِحسان نہ جتائے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل وکرم جانے اور اُس کا شکر ادا کرے۔ 
(8)	جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔
(9)	فُقراء بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں کی کفالت کرنا رزق میں برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔
(10)	ہمیں اپنے متعلقین کی خبر گیر ی کرتے رہنا چاہیے اور جتنا ممکن ہو اُن کی امداد کرنی چاہیے کہ جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توکل کی دولت عطا فرمائے، حصول علم دین کا ذوق وشوق عطا فرمائے،  علم دین سیکھنے سکھانے والوں کی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لیے خیر خواہی کرنے کی توفیق عطافر مائے،  رزقِ حلال کمانے اور اپنے گھروالوں کو بھی حلال کھلانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد