Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
66 - 662
رہا ہے)  تو اسے علم دین سیکھنے دے،  اس کا خرچہ تو برداشت کیے جا،  اللہ تعالٰی اس کا رزق تیرے دستر خوان پربھیجے گا ، تجھے برکتیں ہوں گی ، اِس فرمانِ عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:
 (۱)  ایک یہ کہ بعض لوگوں کا اپنے کو علم دین کے ‏لیے وقف کردینا سنت صحابہ ہے۔ عالم دین بننا فرض کفایہ ہے بقدرِ ضرورت علم دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ (۲)  دوسرے یہ کہ ان طالب علموں کا خرچہ مسلمانوں کو اٹھانا چاہیے،  اِنْ شَآءَ اللہ اس میں بڑی برکت اور بڑا ثواب ہے۔ (۳)  تیسرے یہ کہ اپنے غریب قرابت داروں کی مدد کرنا بڑی برکت کا باعث ہے۔ ربّ تعالٰی فرماتا ہے:
وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ  (پ۱۵، بنی اسرائیل: ۲۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو۔
اور جب ایک شخص غریب بھی ہو،  قرابت دار بھی اور طالب علم بھی اس پر خرچہ کرنا نُورٌ عَلٰی نُور ہے۔ خیال رہے!حضور انور کا”لَعَلَّیعنی شاید ‘‘ فرمانا ”شک“کے ‏لیے نہیں ۔ کریموں کی ”شاید“ بھی یقینی بلکہ حَقُّ الْیَقِیْنِیْ ہوتی ہے۔ ‘‘  (1) 
مدنی گلدستہ
 ’’ رزق حلال کمائیـے ‘‘ کے13حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے13مدنی پھول
(1)	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ معمول تھا کہ وہ علم دین کے حصول کے لیے ہر وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر رہا کرتے تھے۔
(2)	حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے علم دین جیسی عظیم دولت سمیت ربّ تعالٰی کی ہر نعمت نصیب ہوتی ہے۔
(3)	طالب علم کی برکت سے اُس کے والدین یا سرپرست وغیرہ کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح، ۷‏ / ۱۲۲، ۱۲۳ ملتقطا۔