حدیثِ مذکور میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو شخص لوگوں سے امیدیں منقطع کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوجاتا اوراپنی تدابیر چھوڑ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ: ’’ طالبِ علم کا رزق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے۔ ‘‘ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ طالب علم کی ضروریات و حاجات آسانی سے پوری فرمادیتا ہے اور اس کی رحمت طالبِ علم کے سرپرست کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور سب کاموں میں اس کی کفایت کی جاتی ہے۔ ‘‘ (1)
رِزْق میں برکت کا بہترین ذریعہ:
مُحَقِّقْ عَلَی الْاِطْلَاق شَیْخ عَبْدُ الْحَقّ مُحَدِّث دِہْلَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اس شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اپنے بھائی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سارا بوجھ مجھ پر ڈال دیا ہے اسے میری مدد کرنی چاہیے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کو بھائی کی کفالت کرنے پر صبر و ہمت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کچھ توکماکراپنے بھائی پر خرچ کرتا ہے یہ سب رزق تجھے اسی کی برکت سے دیا جاتا ہے۔حدیث مذکور اس بات پر واضح دلیل ہے کہ فقراء بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں کی کفالت کرنا رزق میں برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ‘‘ (2)
دین کے لیے وقف ہونا:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ شخص اپنے کو خدمت دین کے لیے وقف کر چکا تھا، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس علم دین سیکھنے آتاتھا، یہ رسم آج تک چلی آرہی ہے کہ بعض لوگ اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردیتے ہیں اور مسلمان اُن کا خرچہ اٹھا تے ہیں اصحاب صفہ بھی ایسے ہی لوگ تھے۔معلوم ہوا کہ طالب علم کی خدمت کرنا خرچہ دینا بہت بڑی عبادت ہے ۔ (فرمایا:شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی الیقین والتوکل،۱ / ۲۸۷، تحت الحدیث: ۸۴ ملخصا۔
2 - اشعۃ اللمعات، کتاب الرقاق ، باب التوکل و الصبر،۴ / ۲۶۲ ملخصا۔