Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
64 - 662
لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہ. (1) 
 ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاانس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ اقدس میں دو بھائی تھے،  ایک بارگاہ نبوی میں حاضر رہتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا ،  کام کرنے والے نے حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے بھائی  ( کے کام نہ کرنے )  کی شکایت کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو ۔ ‘‘ 
دو بھائی اور اُن کے کام:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :  ’’ ان دو بھائیوں میں سے ایک حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس علم و حکمت کی باتیں سیکھنے آتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا  اور ان کا کھانا پینا ایک ساتھ تھا ۔کام کرنے والے نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اپنے بھائی کی شکایت کی کہ نہ یہ خود کماتا ہے،  نہ میرے ساتھ کام کرتا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :میرا گمان ہے کہ تیری کمائی سے اسے رزق نہیں مل رہا بلکہ تجھے اس کی وجہ سے رزق مل رہا ہے۔ لہٰذاتو اس پر اپنی کمائی کا احسان مت جتا۔ ‘‘  (2) 
طالبِ علم کے سرپرست پر کرم:
 ’’ لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہِشاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو۔ ‘‘  دلیل الفالحین میں ہے:  ’’ سرکار دو عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے بھائی کے طلب معاش نہ کرنے اور اس کے اکیلے کمانے پر اسے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اپنے بھائی کی وجہ سے تمہارا طلبِ معاش کے ‏لیے نکلنا تمہارے رزق کی آسانی کا سبب ہو کیونکہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے:”تمہیں تمہارے کمزوروں کے سبب رزق ملتا ہے۔“ 


________________________________
1 -   ترمذی، کتاب  الزھد، باب فی التوکل علی اللہ، ۴‏ / ۱۵۴، حدیث: ۲۳۵۲ بتغیر قلیل۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الرقاق،باب التوکل والصبر،۹‏ / ۱۷۰،تحت الحدیث: ۵۳۰۸۔