Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
62 - 662
 فرشتے کا یہ کلام سنتے نہیں تو اس کا کہنا بے کار ہے،  نیز فرشتے کے اس کلام کا عملی طور پر ظہور بھی ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو یہ تینوں نعمتیں مل جاتی ہیں ۔ (شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے)  یعنی فرشتے کے اس کہہ دینے پر اس کا قرین شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اس سے بھاگ جاتا ہے۔ پھر جب شام شیاطین کا سردار ابلیس اس سے دن بھر کی کارکردگی کا امتحان لیتا ہے تو یہ قرین اس بندے کی دعا کا ذکر کرکے افسوس کرتا ہے کہ میں آج اسے بہکا نہ سکا،  تب ابلیس اس کی تسلی کے لیے یہ کہتا ہے کہ تجھ پر کوئی میرا عتاب نہیں ،  تو معذور تھا،  وہ بندہ فرشتے کی امن میں آچکا تھا۔ ‘‘  (1) 
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:
 اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:  (۱)  ایک یہ کہ فرشتے کی امان میں آجانا،  امن و امان کا ذریعہ ہے،  پھر جو حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امان میں آجائے اس کا کیا کہنا ۔ (۲) دوسرے یہ کہ ابلیس فرشتوں اور ان کی امان و حفاظت کو دیکھتا ہے بدر میں ابلیس نے امدادی فرشتوں کو دیکھا تھا اور کہا تھا: اِنِّی اَرٰی مَالا تَرَوْنَ  (یعنی جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آرہا)   (۳) تیسرے یہ کہ حضورِاَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی ناری اور نوری مخلوق چھپی ہوئی نہیں ۔حضور عَلَیْہِ السَّلَام فرشتوں ،  شیاطین کو ملاحظہ بھی فرماتے ہیں اور اُن کے کلام بھی سنتے ہیں پھر ہم خاکی مخلوق حضور عَلَیْہِ السَّلَامسے کیسے چھپ سکتے ہیں ؟  ‘‘  (2) 
سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر
ملکوت ومُلک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عِیاں نہیں
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح، ۴‏ / ۴۸ ملتقطا۔
2 -   مرآۃ المناجیح، ۴‏ / ۴۸۔