(1) ا ِنسان فطرتاًکمزور واقع ہوا ہے جبکہ اس کا سب سے بڑا دشمن شیطان انتہائی فریبی ومکّار۔ وہ ہر وقت انسان کو بہکانے میں مصروف رہتاہے۔بالخصوص لوگوں سے میل جول کے وقت ممنوعات کے اِرتکاب کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ لہٰذا ہردم ربّ سے اس کا فضل وکرم مانگنا چاہیے کیونکہ اسی کی بدولت شیطان کے مکر وفریب سے بچا جا سکتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی ذات پر توکل کرنے، گمراہ ہونے یا گمراہ کیے جانے ، پھسل جانے یا پھسلائے جانے ، ظلم کرنے یا ظلم کیے جانے، جاہل بننے یا جاہل بنائے جانےسے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:83
شیطان سے حِفَاظَت کا نُسْخَہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَالَ یَعْنِیْ إِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہٖ: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، یُقَالُ لَہُ: ہُدِیْتَ وَکُفِیتَ وَوُقِیتَ، وَتَنَحَّی عَنْہُ الشَّیْطَانُ. (1) زَادَ اَبُودَاود: فَیَقُوْلُ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) لِشَیْطَانٍ آخَرَکَیْفَ لَکَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِیَ وکُفِیَ وَوُقِیَ؟ “ (2)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاانس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم شفیع معظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص ( گھر سے نکلتے وقت) یہ پڑھ لے: ”بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّابِاللّٰہیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے (باہر جاتا ہوں ) میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کیا نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی عطا سے ہے۔ ‘‘ تو اس پڑھنے والے سے کہا جاتا ہے کہ تجھے ہدایت دی گئی، تیری کفایت کی گئی اور تجھے بچالیا گیا، نیز اس سے شیطان دور ہوجاتا ہے ۔ ‘‘ ابوداؤد نے یہ
________________________________
1 - ترمذی،کتاب ا بواب الدعوات، باب ما یقول اذا خرج من بیتہ،۵ / ۲۷۰،حدیث: ۳۴۳۷ بدون ھدیت۔
2 - ا بوداود،کتاب الادب، باب ما یقول اذا خرج من بیتہ،۴ / ۴۲۰،حدیث: ۵۰۹۵۔