گمراہی اور پھسلنے کا فرق:
مرآۃ المناجیح میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ بِلا ارادہ گناہ ہوجانا ”زَلَّت یعنی پھسل جانا“ہے اور اِرادتاً گناہ کرناضلالت، یا گناہِ صغیرہ زَلَّت ہے، گناہ کبیرہ ضلالت، یاعملی غلطی زَلَّت ہے اور اقتصادی غلطی ضلالت۔ چونکہ گھر سے باہر نکل کر ہر قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے، اچھوں سے بھی اور بُروں سے بھی۔ اس لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت مناسب ہے۔ یعنی :یا اللہ گناہوں ، بدعقیدگیوں سے تو ہی مجھے بچانا۔ اب ہرطرح کے لوگوں سے مجھے ملنا ہے۔ خیال رہے کہ یہ دعائیں تعلیم اُمَّت کے لیے ہیں ۔حقوق العباد مارنا ظلم ہے اور حقوق اللہ ضائع کرنا جہالت۔ یعنی خدایا نہ تو میں کسی کا حق ماروں ، نہ کوئی میرا حق مارے اور نہ میں تیرے حقوق میں کوتاہی کروں ، نہ کوئی مجھ سے کوتاہی کرائے۔ سلامتی دین اسی میں ہے کہ انسان نہ ظالم ہو نہ مظلوم نہ جاہل ہو نہ مجہول۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ رحمت ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) گھر سے نکلتے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ضرور کرنی چاہیے تاکہ بندہ نقصان سے محفوظ رہے ۔
(2) نیک لوگ اپنا ہر معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کر دیتے ہیں کسی بھی معاملے میں اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ رحمت الٰہی کے طلبگار رہتے ہیں ۔
(3) ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کی ہرہرمعاملے میں رہنمائی فرمائی ہے حتی کہ گھر سے نکلتے وقت ممکنہ گناہوں سے بچنے کی دعا بھی ارشاد فرمادی۔
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۴ / ۴۷۔