Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
58 - 662
حدیث نمبر:82  	 	
گھر سے نکلتے وقت کی دُعا
عَنْ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ اُمِّ سَلَمَۃَ، وَاسْمُہَاہِنْدُبِنْتُ اَبِیْ اُمَیَّۃَ حُذَیْفَۃَ الْمَخْزُوْمِیَّۃُ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ:بِسْمِ اللّٰہِ،  تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْاُضَلَّ، اَوْاَزِلَّ اَوْاُزَلَّ،  اَوْاَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْاَجْہَلَ اَوْیُجْہَلَ عَلَیَّ.  (1) 
ترجمہ :اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہَ  رضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جن کانام ہند بنت ابو امیہ حذیفہ مخزومیہ ہے۔ان سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تویہ کلمات پڑھا کرتے : ’’ بِسْمِ اللہِ،  تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْاُضَلَّ، اَوْاَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ،  اَوْاَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْاَجْھَلَ اَوْیُجْھَلَ عَلَیَّیعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نام سے  ( نکلا ) ،  میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسہ کیا۔ اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں گمراہ ہونے یا گمراہ کیے جانے ،  پھسل جانے یا پھسلائے جانے ،  ظلم کرنے یا ظلم کیے جانے، جاہل بننے یا جاہل بنائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘  
فتنوں سے بچنے کی آسان دعا:
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جب انسان اپنی ضروریات کے ‏لیے گھر سے نکلتاہے تو لوگو ں سے میل جول ایک لازمی امر ہے۔ اس وقت اندیشہ ہے کہ وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے،  کسی دینی معاملے میں بھٹکا توخود گمراہ ہوگا یا کسی اور کو گمراہ کرے گا اور اگر دُنیوی معاملات میں بھٹکا تو یہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کربیٹھے گا یا کوئی اس پر ظلم وزیادتی کرے گا،  اسی طرح خود کسی سے جاہلانہ برتاؤ کرےگا یا پھراس سے جاہلانہ برتا ؤ کیا جائے گا تو ان تمام صورتوں سے بچنے کے ‏لیے آسان اور مختصر الفاظ میں پناہ مانگی گئی ہے۔ ‘‘  (2) 



________________________________
1 -   ا بوداود،کتاب الادب، باب ما یقول اذا خرج من بیتہ ،۴ ‏ / ۴۲۰،حدیث: ۵۰۹۴، بدون کان اذا خرج الی علی اللہ۔
2 -   شرح الطیبی، کتاب الدعوات، باب الدعوات فی الاوقات ،۵‏ / ۱۹۴،تحت الحدیث: ۲۴۴۲ملخصا۔