Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
57 - 662
(1)	انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر چاہے کیسا ہی کٹھن وقت آجائے وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے۔انہیں اپنے ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی ذات پر کامل بھروسہ ہوتا ہے۔
(2)	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی حضور نبی اکرم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کا یہ عالَم تھا کہ وہ آپ پر اپنی جانیں نچھاور کرتے ، آپ کے آرام کی خاطربڑی بڑی تکالیف خوش دلی سے برداشت کر لیا کرتے تھے ۔
دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا
سر ہے  وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
(3)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک بندے ہر اس سبب کو چھوڑ دیتے ہیں جو اس پر توکل کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔
(4)	جب دشمن کا خوف ہو تو اس وقت ذکر ِ الٰہی کرنے سے گھبراہٹ دُور ہوجاتی ہے اور دل کوسکون و قرار نصیب ہوتا ہے۔
(5)	اشیاء میں تاثیر اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حکم ہی کی وجہ سے ہے۔ وہ جیسے چاہتا ہے اُن میں تصرف فرماتا ہے۔ یہ اُس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ آنکھ کو ایک شے نظر آئے اور اس کے برابر دوسری شے نظر نہ آئے۔جیسا کہ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر ہوا کہ کفارِ مکہ کو اور توسب چیزیں نظر آرہی تھی لیکن اپنے قریب موجود رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سَیِّدُنَاصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بالکل نظر نہ آئے ۔ سچ ہے کہ :
آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی حقیقی توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد