بہترین عبادت:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ جب ہجرت کی شب حضور انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو لے کر صدیق اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) غار ثور میں بیٹھے، تب مشرکین عرب اس غار کے دروازے پر پہنچ گئے، تب آپ نے نہایت خوف کی حالت میں یہ کہا۔ جناب صدیق اکبر کو اس وقت اپنی جان کا خوف نہیں تھا اپنی جان تو آپ پہلے ہی فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے، سانپ سے کٹوا لیا، خوف حضور انور کی تکلیف کا تھا، یہ خوف بہترین عبادت تھا جس پر ساری عبادات قربان ہو ں ۔ حضرت صدیق اکبر اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ گفتگو ربّ تعا لیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں بایں الفاظ نقل فرمایا:
اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ- (پ۱۰، التوبۃ: ۴۰)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سےفرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (1)
تَوکُّلْ کیا ہے؟
حضرت سَیِّدُنا ابو عبداللہ قرشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے توکل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’ ہر حال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے تعلق قائم رکھنا۔ ‘‘ سائل نے عرض کی: ’’ مزید کچھ فرمائیے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ہر اس سبب کو چھوڑدینا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچنے میں رکاوٹ ہو۔ ‘‘ (2)
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ ابوبکر ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسہ کرنے والا ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حفاظت میں رہتا ہے۔
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۸ /۱۶۲۔
2 - لباب الاحیاء،ص ۳۴۵۔