اللہ عَزَّ وَجَلَّپرہیز گاروں کے ساتھ ہے:
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :”ثَالِثُھُمَایعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تیسرے ہونے“ کا مطلب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ ہے اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حفاظت میں ہیں ۔اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کے تحت داخل ہے، جس میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ (۱۲۸) (پ۱۴، النحل:۱۲۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بے شک اللہ اُن کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں ۔
اس حدیث میں حضور سَیِّدُالْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ الِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اللہ عَزَّوَجَلَّپر عظیم توکل کا بیان ہے۔ (کہ دشمن کے اتنے قریب ہونے کے باوجود بھی نہ گھبرائے ۔) اسی طرح اس میں صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت کا بھی بیان ہے کہ انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنا مال ، اہل وعیال اور اپنے وطن کو چھوڑدیااور حضور کی حفاظت کے لیے اپنی جان داؤ پر لگادی۔‘‘ (1)
کفار اندھے ہوگئے:
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اتنے کٹھن ونازک وقت میں بھی حضور نبی مکرم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ پر کامل بھروسہ کیااور کفارکی طرف سےبالکل بھی نہ گھبرائے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے نبی کی زبر دست مدد فرمائی اور کفارمکہ کوآپ نظر ہی نہ آئے۔ چنانچہ منقول ہے کہ ان کافروں کے بارے میں حضور سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا فرمائی: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! انہیں اندھا کردے۔ ‘‘ پس کفارِ مکہ غار کے ارد گرد پھر تے رہے لیکن انہیں غار میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور سَیِّدُنَاصدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موجودگی کا علم نہ ہوسکا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اندھا کردیا تھا۔ (2)
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل ابی بکر الصد یق،۸ / ۱۴۹،الجزء الخامس عشرملخصا۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفضائل ، باب فی المعجزات،۱۰ / ۱۸۴، تحت الحدیث: ۵۸۶۸۔