ادائیگی کا خیال کرتے ہیں ۔
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب سے صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہی بچاسکتی ہےاس لیے اس کی رحمت کا سوال کرنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ہر آن اپنی رحمت کے سائے میں رکھے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:81
حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عَظِیم تَوَکُّل
عَنْ اَبِیْ بَکْرِنِ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ القُرَشِیِّ الْتَیْمِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَہُوَ وَاَبُوْہُ وَاُمُّہُ صَحَابَۃ ٌرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَ: نَظَرْتُ إِلٰی اَقْدَامِ الْمُشْرِکِیْنَ وَنَحْنُ فِیْ الغَاِروَہُمْ عَلٰی رُءُوْسِنَا فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ!لَوْاَنَّ أَحَدَہُمْ نَظَرَ تَحَتَ قَدَمَیْہِ لَاَبْصَرَنَا، فَقَالَ: مَاظَنُّکَ یَا أبَا بَکْرٍبِاِثْنَیْنِ، اَللّٰہُ ثَالِثُہُمَا؟ (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیق عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تَیم بن مُرّہ بن کَعْب بن لُؤَیِّ بن غالب قرشی تیمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ ، آپ کے والداور والدہ کو بھی شرف صحابیت حا صل ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ (کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے موقع پر ) جب ہم غار میں تھے تو میں نے مشرکین کے قدموں کو دیکھا وہ ہمارے سروں پر پہنچ گئے۔میں نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف نظر کی تووہ ہمیں دیکھ لے گا۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے ابو بکر! تیرا اُن دو کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جن کے ساتھ تیسرا ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ “ہے؟ ‘‘
________________________________
1 - مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ، ص۱۲۹۸،حدیث: ۲۳۸۱ بتقدم وتاخر۔