چہرہ یا توجہّ یا دل کا رُ خ یا ان دونوں جملوں میں اپنے ظاہر و باطن کی طرف اشارہ ہے یعنی الٰہی !میر ا باطن بھی تیرا مُطِیْع ہے کہ اس میں ریا (شرک) سرکشی نہیں اور میرا ظاہر بھی تیرا فرمانبردار کہ میرا کوئی عضو باغی نہیں ، غرضیکہ میرا اپنا کچھ نہیں ، سب کچھ تیرا ہے۔ سوتے وقت یہ کلمات اس لیے عرض کیے تاکہ معلوم ہو کہ میرا سونا بھی تیرے حکم کے ماتحت ہے۔ (تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے) لہٰذا مجھے اندرونی و بیرونی آفات سے بچالے اور میری مَعاش و مَعاد اچھی کر دے۔ چونکہ بیداری میں انسان کچھ ذمہ دار ہوتا ہے اور بااِختیار، مگر سوجانے پر سب کچھ کھو بیٹھتا ہے۔ اسی لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت ہی موزوں ہے۔ نیز سوتے وقت یہ خبر نہیں ہوتی کہ اب سویرے کو اٹھوں گا یا قیامت میں ، اس لیے یہ کہہ کر سونا بہتر ہے کہ خدایا !اب سب کچھ تیرے سپرد۔ (پناہ گاہ اور موضعِ نجات صرف تیری ہی طرف ہے) یعنی تیرے غضب سے پناہ صرف تیری رحمت کے دامن میں ہی مل سکتی ہے اور تیری پکڑ سے رہائی صرف توہی دے سکتا ہے۔تیرے غضب کی آگ کو صرف تیری رحمت ہی کا پانی بجھاسکتا ہے، اگر تو عدل کرے تو اُونچے اُونچے کانپ جائیں اگر فضل فرمائے تو گنہگاروں کی بھی امید بندھ جائے۔اس حدیث میں وعدہ فرمایا گیا کہ سوتے وقت (یہ کلمات) پڑھنے والا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایمان پر مرے گا، اسلام و تقویٰ پر جیئے گا، بڑی ہی مجرب دعا ہے۔ فقیر بِفَضْلِہِ تَعَالٰی اس پر عامل ہے۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ کرم ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) باوضو سونے والا شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔
(2) نیک لوگ ہرمعاملے میں شریعت کی پیروی کرتے ہیں حتی کہ سوتے وقت بھی سنن ومستحبات کی
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح ، ٤ / ۵۔۶ملتقطا۔