Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
52 - 662
تمام اُمور میں اللہ عَزَّوَجَلَّپر بھروسہ کرنا:
دلیل الفالحین میں عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’  میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا۔یعنی میں نے تیرا حکم مانتے ہوئے تیری رضا پر راضی رہتے ہوئے تیری قدرت پر قناعت کرتے ہوئے خود کوتیرا فرمانبردار بنایا۔ اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا یعنی  تجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے دُنیوی اُخروی تمام اُمور تیرے سپرد کیے اور اپنے نفس کو تیری طرف رجوع کرنے والا بنایا۔ ‘‘  (1) 
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ میں نے تیری رحمت کا سہارا لیا۔یعنی میں نے تجھ پر توکل کیا اور اپنے معاملات میں تجھ پر بھروسہ کیا جیسے انسان اپنی کمر کے ساتھ کسی چیز سے ٹیک لگاتاہے۔رَغْبَۃًیعنی تیرے ثواب میں رغبت کرتے ہوئے۔ رَھْبَۃًیعنی تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ ‘‘  (2) 
سونے کی تین سنتیں :
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں تین اہم سنن مستحبہ بیان ہوئی ہیں : (۱)  سونے سے قبل وضوکرنا۔اگر پہلے سے وضو ہے تو وہی کافی ہے کیونکہ مقصود طہارت کی حالت میں سونا ہے۔تاکہ اپنے خوابوں میں سچا ہو اورنیند کی حالت میں شیطان کے شر سے محفوظ رہے اور اگر اس رات موت آئے تو اچھی حالت میں آئے۔ (۲)  دائیں پہلو پر سونا کیونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرح سونے کوپسند فرماتے تھے اور اس طرح سونے والے کے ‏لیے جاگنا آسان ہوتا ہے۔  (۳)  سونے سے پہلے  ذِکرُ اللہ کرناتاکہ ذِکراللہ ہی آخری عمل ہو۔ ‘‘  (3) 
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان الفاظِ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’  (حدیثِ مذکورمیں ) نفس سے مراد ذات یا جان ہے اور وَجْہٌ سے مراد 


________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی الیقین والتوکل،۱‏ / ۲۷۹،تحت الحدیث: ۸۰۔
2 -   عمدۃ القاری،کتاب الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء،۲‏ / ۶۹۶، تحت الحدیث: ۲۴۷۔
3 -   شرح مسلم للنووی،کتاب الذکروالتوبۃ والاستغفار،باب الدعاعند النوم ،۹‏ / ۳۲  ، الجزء السابع عشر ماخوذا۔