Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
51 - 662
فُلَانُ! إِذَا أَوَیْتَ  إِلَی   فِرَاشِکَ فَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ،  وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ،  وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ،  فَإِنَّکَ إِنْ مِتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ مِتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَیْرًا.  (1) 
 وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحَیْنِ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِذَااَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّاَ وُضُوْ ءَکَ  لِلصَّلاَۃِ،  ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الاَیْمَنِ وَقُلْ:وَذَکَرَنَحْوَہُ،  ثُمَّ قَالَ: وَاجْعَلْہُنَّ  آخِرَمَا تَقُوْلُ. (2)  
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاابو عُمارہ براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہماسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ اے فلاں !جب تو اپنے بستر پرجائے تو یہ کلمات کہہ لیا کر: ’’ اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ،  وَأَ  لْجَأْتُ ظَھْرِیْ إِلَیْکَ،  رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ،  وَ بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَیعنی یااللہ! میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا اورمیں تیری طرف متوجہ ہوا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیااورتیری رحمت کا سہارا لیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ،  پناہ گاہ اور موضعِ نجات  صرف تیری ہی طرف ہے۔میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔ ‘‘  (آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:)  ’’ اگر تو اِسی رات فوت ہوگیاتو اسلام پرفوت ہوگا اور اگر صبح پائے گا توبہت بھلائی حاصل کرے گا۔ ‘‘ 
صحیحین کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنَا براء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا:  ’’ جب بستر پر جاؤ تو نمازکا سا وضو کرو،  پھر اپنے سیدھے پہلو پر لیٹ جاؤ اور یہ کلمات کہو۔ ‘‘ اس کے بعد پہلی حدیث جیسے کلمات بیان کیے اور پھر فرمایاکہ  ’’ انہیں اپنے آخری کلمات بناؤ ۔ ‘‘  (یعنی ان کلمات کے بعد کوئی اور بات نہ کرو۔) 



________________________________
1 -   بخاری،کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی انزلہ بعلمہ والملائکۃ یشھدون، ۴‏ / ۵۷۱،حدیث: ۷۴۸۸ بتغیر قلیل۔
2 -   بخاری، کتاب الدعوات، باب اذا بات طاھرا، ۴‏ / ۱۹۱،حدیث:  ۶۳۱۱مفصلا۔