ہے مجھے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اور نفس پر توکل کرنے والا کہتا ہے:جب تک میرا جسم سلامت ہے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہو سکتی۔ یہ تینوں اقسام جاہلوں کا توکل ہے۔ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرنے والا کہتا ہے کہ :میں مالدار ہوں یا فقیر ، مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میرا ربّ میرے ساتھ ہے، وہ جیسے چاہے گا مجھے سنبھالے گا ۔ (1) (یہ حقیقی توکل ہے۔)
مدنی گلدستہ
’’ تَوَکُّل ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو رزق مُقَدَّر میں ہے وہ ضرور ملتا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ جیسے چاہتا ہے اپنی مخلوق تک رزق پہنچاتا ہے۔
(2) رزق کے لیے تگ و دو ضرور کرنی چاہیے، حصولِ رزق کی کوشش ہرگز توکل کے خلاف نہیں ۔
(3) بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عبرت آموز معاملات سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی طرف گامزن ہوجاتے ہیں ۔
(4) مال ودولت اورطاقت وقوت پر بھروسہ کرنا جاہلوں کا طریقہ ہے ۔ تو کل کا حق یہ ہے کہ صرف خدائے بزرگ وبرتر کی ذات پر بھروسہ کیا جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کامل توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی سے سرفراز فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:80
سوتے وقت پڑھے جانے والے بابرکت کلمات
عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَا
________________________________
1 - درۃ الناصحین، المجلس السابع والعشرون فی بیان الرزق، ص۹۹۔