Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
49 - 662
ربّ تعالٰی کی شانِ رزّاقی:
حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم بن ادھم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْاَکْرَم کی توبہ کاایک سبب یہ واقعہ بنا کہ ایک دن آپ شکار کے ‏لیے گئے ۔پھر جب کھانا کھانے لگے تو ایک کوّا آیا اورروٹی کا ایک ٹکڑا اٹھا کر تیزی سے ایک جانب اڑگیا۔ آپ کوبہت تعجب ہوا۔چنانچہ گھوڑے پر سوار ہو کر اس کا تعاقب کرنے لگے۔کَوّا کچھ دور ایک پہاڑ پر جاکر نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔آپ بھی پہاڑ پر چڑھے تو کوا وہاں موجود تھا اور قریب ہی ایک شخص پڑا تھا جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔آپ نے جلدی سے اسے کھول دیا اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے بتا یا کہ میں ایک تاجر ہوں ،  ڈاکوؤں نے میرا سارا مال چھین لیا اور میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں ڈال دیا میں اسی حالت میں سات دن سے یہاں موجود ہوں ۔ یہ کَوَّا روزانہ میرے پاس روٹی لے کر آتا ہے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے میرے منہ میں ڈال دیتا ہے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے میرے رزق کا ایسا انتظام فرمایاہے کہ میں ایک دن بھی بھوکا نہیں رہا۔ ‘‘ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یہ شان رزّاقی دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے صِدْقِ دل سے توبہ کی،  غلاموں کو آزاد کردیا،  اپنی تمام دولت وجائیدادوقف کردی اور شا ہانہ لباس اتار کر اُونی کپڑے پہن ‏لیے۔ پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کر کے بِلا زَادِ راہ پیدل ہی حج کے ‏لیے چل دئیے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کی بدولت دوران سفر آپ کوبھوک و پیاس کا بالکل بھی احساس نہ ہوا یہاں تک کہ آپ بیت اللہ شریف پہنچ گئے۔ آپ نے اس کرم پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا بہت شکر ادا کیا۔ (1)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمین
توکل کی چار اقسام:
حضرت سَیِّدُنَاحَاتِم اَصَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے فرمایا : ’’ توکل چار طرح کا ہوتا ہے:  (۱) مخلوق پر توکل  (۲) مال پر توکل  (۳)  نفس پر توکل  (۴)  اپنے ربّ پرتوکل۔مخلوق پرتوکل کرنے والا کہتا ہے :فلاں کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی غم نہیں پہنچ سکتا ۔اورمال پر توکل کرنے والا کہتا ہے:جب تک میرے پاس کثیر مال 


________________________________
1 -   درۃ الناصحین، المجلس السابع والعشرون فی بیان الرزق، ص۹۹ملخصا۔