Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
48 - 662
ربّ تعالٰی دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے:
اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے حضرتِ سَیِّدُناعِزْرَائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:  ’’ روح قبض کرتے وقت تجھے کسی پر رحم بھی آیا؟  ‘‘ عرض کی:  ’’ ہاں ! جب ایک کشتی غرق ہوئی تو اس کے کچھ مسافر ایک تختے کا سہارا لینے کی وجہ سے بچ گئے،  ان میں ایک عورت بھی تھی جو اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی،  مجھے اس کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا تو مجھے اس کے بچے پر بہت رحم آیا۔ ‘‘ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فرمایا:  ’’ میں نے اس بچے کو جزیرے پر ڈال دیااور اس کی طرف شیرنی بھیجی جو اسے دودھ پلاتی رہی یہاں تک کہ وہ بڑا ہوگیا ۔پھر جنوں نے اسے انسانوں کی بولی سکھائی،  پھر وہ بادشاہ بنااورپھر وہ اپنی حقیقت کو بھلا کر خدا ہونے کا دعویٰ کربیٹھا ۔ اس کا نام شَدَّاد تھا۔ ‘‘ یہ وا قعہ نقل کرنے کے بعد عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسا رزاق ہے کہ اپنے دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے تو پھر اپنے محبوب بندوں کو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟  ‘‘  (1) 
حق توکل کیا ہے؟ 
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’  حق توکل یہ ہے کہ فاعل حقیقی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ہی جانے۔ بعض نے فرمایا کہ کسب کرنا  (اور)  نتیجہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر چھوڑنا حق توکل ہے۔ جسم کو کام میں لگائے،  دل کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے وابستہ رکھے۔ تجربہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل کرنے والے بھوکے نہیں مرتے ۔کسی نے کیا خوب کہا ۔ شعر
رزق نہ رکھیں ساتھ میں پنچھی اور درویش
جن کا ربّ پر آسرا اُن کو رزق ہمیش
خیال رہے کہ پرندے تلاش رزق کے لیے آشیانہ سے باہر ضرور جاتے ہیں ہاں درختوں میں چلنے کی طاقت نہیں تو انہیں وہاں ہی کھڑے کھڑے کھاد پانی پہنچتا ہے ۔ ‘‘  (2) 



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح،کتاب الرقاق ، باب التوکل والصبر،۹ ‏ / ۱۵۷،تحت الحدیث: ۵۲۹۹ملخصا۔
2 -   مرآۃالمناجیح ، ۷‏ / ۱۱۳۔