با ب نمبر: 15
اَعْمَال پرمُحَافَظَت کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی بھی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانےکےلیےاس پر ہمیشگی اختیار کرنا ضروری ہے، جو کام اِستقامت وتسلسل کے ساتھ کیا جائے وہ ایک نہ ایک دن پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچنے کےلیے ہمیشگی اور پابندی کےساتھ اس کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری ہے۔ مسلسل سفر کرنے والا طویل راستے کوبھی ایک نہ ایک دن آسانی اورسہولت کے ساتھ طے کر لیتا ہے ۔اِسی طرح اَعمالِ صالحہ پرمُحافظت وہمیشگی اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔
ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ اَعمال پر محافظت ‘‘ کے بارے میں ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں 4چار آیاتِ کریمہ اور 3اَحادیثِ مبارَکہ بیان فرمائی ہیں ۔ اس باب میں آیات کی تفسیر، احادیث کی تشریح، نیزاَعمالِ صالحہ پراستقامت کی اہمیت وفضیلت اور باب سے متعلق دیگر رِوایات و حکایات بیان کی جائیں گی، پہلےآیات مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1) مؤمنوں کے دِل یادِالہی میں جھک جاتے ہیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ-وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ (۱۶) ( پ۲۷، الحدید:۱۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اُترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت فاسق ہیں ۔
تفسیر روح البیان میں ہے : ’’ کیاایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کی طرف جھک جائیں اوراس کے ذکر سے اطمینان حاصل کریں اوربغیر کسی سستی اور کمی کے اس کے اَحکامات پرعمل کر کے اوراس کی منع کردہ چیزوں سے اپنے آپ کو روک کراس کی اطاعت و فرمانبرداری کی