Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
473 - 662
 ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا انہیں کو شام کے وقت بھی کھلائے،  دوسرے دس  مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اِباحت و تملیک دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کونصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس  روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روزبقدرِ صدقۂ فطر دے دیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دے دے۔ ‘‘  (1) 
مدنی گلدستہ
امام  ’’ حُسَیْن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)	مباح کاموں کوعبادت سمجھ کرترک کرنا عبادت نہیں ہے۔ عبادت صرف وہی کام کہلائے گا جس کو شریعت مطہرہ نے عبادت کہا ہو ۔
(2)	جس نذرکوپوراکرنے میں کسی نقصان کااندیشہ ہوتواسےپورانہ کرے  بلکہ کفارہ اداکردے۔
(3)	نذرسوچ سمجھ کرماننی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ بعدمیں مشکل میں پڑجائےاور نذرپوری نہ کرسکے۔
(4)	خطبہ کھڑے ہوکر دینااور بیٹھ کر سنناسنت مبارکہ ہے۔ 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،  ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے،  ہماری حتمی مغفرت فرمائے،  جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   بہار شریعت،۲‏ / ۳۰۵، حصہ۹ ملتقطا۔