Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
472 - 662
 کا روزہ رکھنا واجب ہے۔ ‘‘  (1)  
خطبہ بیٹھ کرسننا سنت ہے:
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’  (دوران خطبہ ایک شخص کھڑا تھا )  اس طرح کہ سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضورِ انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر سُن رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہو کر سنت ہےاور سننا   بیٹھ کر سنت،  اسی لیے تو حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کے کھڑے ہونے پر تعجب فرمایا۔یہ حضرت  (ابو اسرائیل)  بنی عامر ابن لوی کی اولاد سے تھے، قریش کے ایک خاندان سے۔ان کا نام ابواسرائیل ہی تھا۔ انہوں نے نذر مانی یعنی نماز کے علاوہ کسی وقت نہ بیٹھے گا اور کسی انسان سے کلام نہ کرے گا، یہ مطلب نہیں کہ التحیات میں بھی نہ بیٹھے گا اور نماز میں تلاوت وغیرہ بھی نہ کرے گا،  عادات کی نفی ہے عبادات کی نفی نہیں ۔ یعنی خاموش رہنا،  سایہ میں نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں قراءت فرض ہے اور التحیات میں بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی،  اسی طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے، یہ نذرتوڑدےمگرروزہ چونکہ عبادت ہے اس ‏لیے اسے پورا کرے۔ خیال رہے کہ ابواسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے،  ہمیشہ خاموش رہنے،  سایہ میں نہ بیٹھنے ، ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی، حضورصَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم نے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکوئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانے وہ سال میں پانچ حرام روزوں کے سوا تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دنوں میں  روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ دے، نذرکا کفارہ وہ ہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، امام شافعی  (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) کے ہاں ان دنوں کی نذر درست ہی نہیں ۔ ‘‘  (2) 
قسم کا کفارہ:
قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس  مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے۔ یعنی یہ اختیار ہے کہ



________________________________
1 -   مرقاۃ الفاتیح، كتاب الايمان   والنذور، باب فی النذر ،۶‏ / ۶۰۲ ،تحت الحدیث: ۳۴۳۰ ملتقطا۔
2 -   مرآۃالمناجیح ،۵‏ / ۲۰۴۔