حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اس سے کہو! گفتگو کرے، سائے سے لطف اندوز ہو، بیٹھے اور اپنا روزہ پوراکرے۔ ‘‘
کون ساعمل عبادت ہے؟
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابواسرائیل انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُصحابی تھے۔اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مباح کاموں یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کو چھوڑنا عبادت نہیں ۔اسی طرح دھوپ میں بیٹھنا اورہر وہ کام جس سے انسان کو تکلیف ہو اور قرآن و حدیث میں اس پر ثواب نہ ہو تو وہ عبادت نہیں ۔عبادت تو وہی عمل ہے جس کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کےرسو ل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا ہے۔ ‘‘ (1)
جائزکام کی مَنَّت پوری کرنا ضروری ہے:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اسے چاہیے کہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیونکہ نیک کام کی منت پوری کرنا واجب ہے اور صیام دہر مستحسن ہےاس شخص کے لیے جو اس کی قدرت رکھتا ہو اور اس سے وہ پانچ دن مستثنیٰ ہو ں گے جن میں شرعًا اور عرفًا روزے رکھنا منع ہے، اگر ان ایام کے روزوں کی بھی منت مانی تھی تو احناف کے نزدیک اس پر واجب ہے کہ ان ایام کے روزے نہ رکھے اور کفارہ دے۔سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کلام کرے کیونکہ کبھی کبھی بولنا واجب ہوتاہے جیسا کہ سلام کا جواب دینا اور نماز میں قراءت کرنا اور اِن کو ترک کرنا گناہ ہے۔بہرحال ہمیشہ نہ بیٹھنا اور سائے میں نہ جانا یہ ایسے کا م ہیں جن کی انسان طاقت نہیں رکھتا تو سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَاابواسرائیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوقسم پوری کرنےسے پہلے ہی اسے توڑنے کاحکم دیاتاکہ وہ نذرپوری کرکے نقصان نہ اُٹھائیں ۔اَصحاب ابوحنیفہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکہتے ہیں کہ اگر کسی نے عید کے دن کے روزے کی منت مانی تو عید کے علاوہ کسی اور دن
________________________________
1 - عمدۃ القاری،كتاب الايمان والنذور، باب النذر فيما لايملك وفي معصية ،۱۵ / ۷۴۶ ،تحت الحدیث: ۶۷۰۴۔