(1) علما ئے کرام کوچاہیے کہ اپنی صحبت میں رہنے والوں کومختلف اصلاحی موضوعات پردرس دیں ، کبھی دوزخ سے ڈرائیں تو کبھی جنت کی نعمتوں کی رغبت دلائیں ، کبھی خوفِ خداکا درس دیں توکبھی محبت الٰہی سے ان کے دلوں کوجگمگائیں ۔
(2) دل کی کیفیت کابدلتے رہنا بشری اور فطری تقاضہ ہے۔
(3) بہت کامیاب ہے وہ شخص جو اپنے تمام امور کو ان کے اوقات میں انجام دے۔
(4) اگرکسی کوکوئی بات سمجھانی ہویا ذہن نشین کروانی ہوتواس کی حکمتیں بیان کرنا نہایت مفید ہےاور اسے تین مرتبہ دہرائے اس طرح سننےوالا صحیح طریقے سےسمجھ سکے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمارے دلوں کواپنےقُربِ خاص کی دولت سے مالامال فرمائے ، اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عشق سے معمور فرمائے ، فکرِ آخرت نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:152
ابو اِسرائیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی انوکھی نذر
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ اِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ، فَسَاَلَ عَنْهُ فَقَالُوْا:اَبُوْ اِسْرَائِيْلَ نَذَرَ اَنْ يَّقُوْمَ فيِ الشَّمْسِ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُوْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مُرُوْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ. (1)
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ ارشاد فرمارہےتھے اور ایک آدمی کھڑا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں استفسار فرمایا تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بتایا یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں ، سایے میں نہ جائے گا اور نہ ہی کسی سے گفتگو کرے گا اور (ہمیشہ) روزہ رکھے گا۔ ‘‘
________________________________
1 - بخاری،كتاب الايمان والنذور،باب النذر فيما لايملك وفي معصية،۴ / ۳۰۳ ،حدیث: ۶۷۰۴ بتغیر۔