Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
47 - 662
سُن سُن  کے صحابہ کی باتیں جب لوگ مسلماں ہوتے تھے
پھر میرے رسول ِاکرم کی گفتار کا عالَم کیا ہوگا
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی توکل عطا فرمائے،  عفوودرگزر کی دولت عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:79 		    		
تَوَکُّل کرنے کا حق
عَنْ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَوْ أَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ،  تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا.  (1) 
ترجمہ :  حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:  ’’ ا گرتم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘ 
بغیر کوشش کے رزق ملنا:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’  کوّے کا بچہ جب انڈے سے نکلتا ہے تو اس کا رنگ سفید ہوتا ہے، اس کے ماں باپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ چنانچہ وہ بچہ بھوکا رہتاہے۔مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی طرف مکھیوں اور چیونٹیوں کو بھیجتا ہےجنہیں کھاکر وہ تھوڑا بڑا ہوجاتا ہے اور رنگ بھی سیاہ ہوجاتا ہے۔ اس کے ماں باپ اس کے پاس واپس آتے ہیں تو اس کا کالارنگ دیکھ کر اس کی دیکھ بھال کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اس طرح بغیر کوشش کے اسے رزق ملتا رہتا ہے۔ ‘‘  (2) 



________________________________
1 -   ترمذی، کتاب  الزھد، باب فی التوکل علی اللہ، ۴‏ / ۱۵۴، حدیث: ۲۳۵۱ بتغیر قلیل۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح،کتاب الرقاق ، باب التوکل والصبر،۹ ‏ / ۱۵۷،تحت الحدیث: ۵۲۹۹۔