سر پر ایک گھڑ ابغل میں دوسرا ہاتھ میں لٹکائے اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتی راستہ طے کرلیتی ہے، بیک وقت راستہ پر بھی نظر رکھتی ہے اور گھڑوں کا دھیان بھی اور سہیلی کی طرف توجہ بھی، ایسے ہی مسلمان مسجد میں پہنچ کر فرشتہ صفت بن جائے، بازار میں جا کر اعلیٰ درجہ کا تاجر، دنیاو دین دونوں کو سنبھالے ، خالق و مخلوق سب کے حقوق ادا کرتا ہوا زندگی کا راستہ طے کرے۔سُبْحَان ﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی ہر ساعت ﷲکے ذکر میں گزرتی ہے کہ دنیاوی کاروبار انہیں ذکر ﷲ سے غافل نہیں کرتے اور بعض لوگوں کے ہاں تقسیم ہوتی ہے کہ بعض گھڑیاں ربّ تعالٰی کے ذکر میں اور بعض گھڑیاں دنیاوی مشغلہ میں ، صحابۂ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) میں بھی انہیں دو قسم کے حضرات تھے۔ حضرت ِحنظلہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) دوسری جماعت سے تھے اس لیے ان سے یہ فرمایا گیا، اسی لیے حضرت حنظلہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے خطاب فرمایا، صدیق اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے خطاب نہ فرمایا کہ حضرت صدیق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) پہلی جماعت سے تھے۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
’’ یَاغَفَّارُ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضورنبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاصحاب میں کوئی بھی منافق نہیں تھا، نہ ہی اعتقادی اور نہ ہی عملی، اسی لیے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اپنے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا ان کے اعلیٰ درجے کے تقویٰ وپرہیزگاری، اخلاص وفکرِ آخرت پر دلالت کرتا ہے۔
(2) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنی دینی اور دنیاوی حاجات لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضرہوتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی حاجتیں پو ری فرمایا کرتے تھے۔
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح ،۳ / ۳۱۴ ملتقطا۔