کو ضَیْعَۃٌ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم پرگھر پہنچ کر کچھ غفلت طاری ہوجاتی ہے ، دل کا حال وہ نہیں رہتا جو حضورِ انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی مجلس پاک میں ہوتا ہے، دل کا یکساں حال نہ رہنا ہی حال کی منافقت ہے۔ (حضرت سَیِّدُنَاحنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بات سن کرحضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ہماری بھی یہی حالت ہے) یعنی یہ اختلافِ حال صرف تمہارا ہی نہیں بلکہ ہم تمام صحابہ کا ہے، تو کیا ہم سب منافق ہوگئے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ چلو حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسےپوچھیں ۔یہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بیان کا معجزہ تھا کہ آپ کے بیان سے عالَمِ غیب گویا عالَمِ شہادت بن جاتا تھا ۔بعض علماء کی تقریر میں سامعین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعہ سامنے ہورہا ہے ، بار ہا ذکرِ معراج ، ذکرِ ہجرت وغیرہ میں ایسا دیکھا گیا ہے، یہ بیان و اخلاص کا کمال ہے۔ ( حضرت سَیِّدُنَاحنظلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےعرض کی:آپ کے پاس سے جانے کے بعد ہم بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں ) بھول جانے سے مراد ہے توجہ تام نہ رہنا نہ کہ حفظ کا مقابل، لہٰذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب صحابہ کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ فوراً حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان بھول جاتے تھے تو اُن سے روایت حدیث کیونکر درست ہوئی۔ (حضو رصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تمہاری جو کیفیت ہماری موجودگی میں ہوتی ہےا گر ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافہ و ملاقات کریں ) یعنی تمہارے قلب کا جو حال میر ی مجلس میں ہوتا ہے اور جو کشف و مشاہدہ تیقظ و بیداری یہاں ہوتی ہے، اگر ایسی ہی ہر وقت رہے تو فرشتے تم سے علانیہ طور پر ملاقاتیں مصافحے کیا کریں ورنہ صحابۂ کرام سے فرشتے مصافحے بھی کرتے تھے اور ملاقاتیں بھی مگر دوسری شکلوں میں ۔ (حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:لیکن اے حنظلہ! ایک ایک گھڑی ) یعنی زندگی کی بعض گھڑیاں دینی انہماک کے لیے رہیں اور بعض گھڑیاں دنیاوی کاروبار کے لیے تاکہ دونوں جہاں آباد و قائم ر ہیں ۔ایک ہندی شاعر نے کیا خوب کہا ، شعر:
تو دنیا میں ایسا ہو رہ جوں مرغابی ساگر میں
ڈگر پہ اپنے ایسے جانا جوں چت ناری گاگر میں
مرغابی دریا میں آکر تیرنے والا جانور بن جاتی ہے اور ہوا میں پہنچ کر پرندہ، پہاڑی عورت دو گھڑے