Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
467 - 662
یادِ الٰہی کے‏لیے،  اسی طرح   محاسبہ نفس  محاسبہ مخلوق  میں غورو فکر ،  کھانے پینے  اور دیگر ضروریات  کے ‏لیے اَوقات مقرر کر لے ۔کمالات  حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے  ا ِس کے علاوہ بقیہ خیالات ہیں ۔ ‘‘  (1) 
حضور عَلَیْہِ السَّلَامکی صُحبت کا اثر:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہ حنظلہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) غَسیلُ الملائکہ نہیں ہیں ،  بلکہ دوسرے صحابی ہیں جو کاتبِ وحی تھے۔اُسیدابن عَمرو ابن تمیم کی اولاد سے ہیں ۔ بڑی عمر پائی ، حضرت امیر معاویہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)  کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ (حنظلہ منافق ہوگیا)  یعنی میر ی حالت منافقوں کی سی ہوئی کہ اس میں یکسانیت نہیں ۔یہاں نِفاق سے اعتقادی نفاق مراد نہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے اور نہ اس کلام میں اپنے کفر یا نفاق کا اقرار ہے ( بلکہ )  آپ کا یہ قول انتہائی خوفِ خدا پر مبنی ہے،  اقرارِ کفر تو کفر ہے،  مگر اقرارِ گناہ جو خوفِ خدا سے ہو عین تقویٰ ہے۔حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیاتھا:اِنّی کُنْتُ مِنَ الظَّلِمِیْنَ،  حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا:رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا،  جیسے ان بزرگوں کو ظالم نہیں کہا جاسکتا ایسے ہی ان صحابی کواس کلام کی بنا پر عاصی یا منافق نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا یہ حدیث روافض کی دلیل نہیں بن سکتی ۔ ( حضرت سَیِّدُنَا حنظلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بات سن کر سَیِّدُنَاصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :سُبْحَان اللہ ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ) تم سے نفاق کو کیا نسبت ؟  تم صحابیٔ رسول ہو،  کاتب وحی ہو،  اپنے کلام کا مطلب خود بیان کرو۔ (بارگاہِ رسالت میں ہوتے ہوئے گویاہم  جنت ودوزخ کو آنکھوں سے دیکھ رہےہوتے ہیں ) یعنی اس وقت ہم کو خوف و اُمید اس درجہ کی ہوتی ہے گویا ہم جنت دوزخ دیکھ کر اس سے ڈر رہے ہیں اور اسے چاہ رہے ہیں معلوم ہوا کہ صحابہ کو حضورِ انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی مجلس میں عین الیقین نصیب ہوجاتا تھا  نہ معلوم حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے پیچھے اُن کی نمازیں کیسی ہوتی ہوں گی۔ﷲ تعالٰیان کی تجلی کچھ ہم کو بھی نصیب کرے۔ ضَیْعَاتٌ،  ضَیْعَۃٌ کی جمع ہے ضَیْعَۃٌ وہ چیز ہے جس سے روزی وابستہ ہو اکثر زمین،  باغات کھیتی باڑی



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی الاقتصاد فی العبادۃ،۱‏ / ۴۰۴، تحت الحدیث:  ۱۵۱۔