ہےاور ہر ایک اس کی طاقت نہیں رکھتااور نہ ہی لوگوں کو اس کا مکّلف کیا گیا ہےاکثرلوگ چند ہی ساعتیں اس کیفیت میں گزارنے کی طاقت رکھتے ہیں اور تمہاری حالت بھی یہی ہے۔لہٰذاتم صراطِ مستقیم پر ہو اور تمہیں جو اپنے منافق ہونے کا وہم ہواہے وہ غلط ہےکیونکہ شیطان راہِ سلوک پرچلنے والوں کواس قسم کے توھّمات میں مبتلاکرنے کی کوشش کرتاہےیہاں تک کہ وہ اُن کے اِعتقادات میں تغیر پیداکردیتاہےپھر اس طرح وہ لوگ نیک اَعمال کوبالکل چھوڑدیتے ہیں ۔ ‘‘ حدیث پاک میں ثَلَاثَ مَرَّاتٍکےالفاظ ہیں یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ ارشادفرمایا۔اس میں تین احتمالات ہیں : (۱) پہلایہ ہےکہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپناپورا قول تین بارارشادفرمایا۔ (۲) دوسرایہ کہلٰکِنْسے آخر تک کی جو گفتگوہےوہ تین بارارشادفرمائی۔ (۳) تیسرایہ کہسَاعَۃًوَسَاعَۃًکے الفاظ تین بار ارشاد فرمائے۔ ‘‘ (1)
ایک بات تین بارکیوں ارشادفرمائی؟
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ثَلاثَ مَرّاتٍیعنی حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بطورِ تاکید تین مرتبہ ارشاد فرمایاتاکہ اس کا اثر زیادہ ہواورحضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وہم زائل ہوجائےاورسَاعَۃًوَسَاعَۃًکے الفاظ میں احتمال ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ رخصت دینے کےلیے ارشادفرمائے ہوں (یعنی ایک ساعت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو اور ایک ساعت میں اپنے نفس کے حقوق ادا کرو۔) یہی احتمال زیادہ ظاہرہےاور یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عبادت کی مُحافظت پر اُبھارنے کےلیے ارشادفرمایا ہوتاکہ ایسا نہ ہوکہ اپنے اوپر مَشقت لازم کرنے کی وجہ سے تم تھک جاؤاورعبادت بالکل ہی چھوڑ دو۔ ‘‘ (2)
اپنے اَوقات کی تقسیم کاری:
دلیل الفالحین میں ہے : ’’ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنےا وقات کو تقسیم کرلے ۔ایک وقت
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، باب ذکراللہ عزوجل والتقرب الیہ، ۵ / ۵۰۔۵۱، تحت الحدیث: ۲۲۶۸ ملتقطا۔
2 - شرح الطیبی، کتاب الدعوات، باب ذکراللہ عزوجل والتقرب الیہ، ۴ / ۴۰۴، تحت الحدیث: ۲۲۶۸۔