نہیں بنایا گیا۔ ‘‘ (1)
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکاانوکھااندازِبیان:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےاپنی حالت بیان کرتے ہوئےکہاکہ جب ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوتےہیں اورآپ ہمارےدرمیان وعظ فرماتے ہیں ، جہنم اور اس کے عذابات کاتذکرہ کرتے ہیں اور کبھی ہماری ترغیب کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں یا ہمارے سامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّیااس کے قُرب کایااس کی صفتِ جمالی وجلالی کے آثارکاتذکرہ کرتے ہیں تو ہماری حالت یہ ہوتی ہے گویاکہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا دیدار کررہے ہیں یا جنت ودوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن جب ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دُور ہوتے ہیں تو ہماری اس حالت میں فرق آجاتا ہے اور ہم اپنی اَزواج میں مشغول ہوجاتے ہیں اور اپنی اولاد سے کھیلتے ہیں اور اپنےمعاشی معاملات کی تگ و دَو میں لگ جاتے ہیں ۔ پھرجب بارگاہ ِ رسالت میں حاضرہو کریہ ساری کیفیت بیان کی توسرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے حنظلہ! اگر تمہاری حالت ہروقت وہی رہے جومیری بارگاہ میں ہو تی ہے یعنی موانع بشریہ اورنفسی تقاضےتمہارے آڑے نہ آئیں اورتم حاضروغائب ہونےکی حالت میں دائمی طور پراسی کیفیتِ کاملہ پر رہوجو تم نے بیان کی توفرشتے تمہاری آرام گاہوں اورتمہارےراستوں میں ، تمہاری مشغولیت وفراغی کے اوقات میں ، تمہارے دن ورات میں تم سے اعلانیہ طورپرمصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ! یہ کیفیت چندساعتوں کی ہوتی ہےاس طرح کہ بندہ ایک ساعت میں کیفیت حضوری میں ہوتاہےاور ایک ساعت میں اس کے اندرکمی آجاتی ہےتو جب تم کیفیت حضوری میں ہوتے ہوتواپنے ربّ کے حقوق اداکرتے ہواورجب وہ کیفیت نہیں رہتی توتم اپنے نفس کوخوش کرتے ہواورایسی حالت میں بندہ منافق نہیں ہوتا۔اس کاحاصل یہ ہےکہ اے حنظلہ!جو کیفیت تم نے بیان کی اس پر دوام حاصل کرنامشقت
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی ،کتاب التوبۃ، باب فضل دوام الذکر والفکر فی امور الاخرۃ ،۹ / ۶۶،الجز السابع عشر۔